The news is by your side.

Advertisement

ترکی: دو برس قبل نافذ ہونے والی ایمرجنسی کے خاتمے کا اعلان

انقرہ : ترکی کے صدر طیب اردوگان نے دو برس قبل ملک میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد نافذ ہونے والی ایمرجنسی آج ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ترکی کی حکومت نے ملک بھر میں ایمرجنسی ختم کردی ہے، ملک بھر میں نافذ کی جانے والی ایمرجنسی دو برس قبل ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے فوجی بغاوت کے ناکام ہونے کے بعد نافذ کی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے سنہ 2016 میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد ایمرجنسی نافذ کرکے ہزاروں افراد کو ملازمتوں سے برطرف کرکے گرفتار کرلیا گیا تھا۔

ترکی میں دو سال سے نافذ ایمرجنسی کو صدر طیب اردوگان نے دوبارہ مملکت کا صدر منتخب ہونے کے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی میں آج دو سال بعد مذکورہ ایمرجنسی کو ختم کیا گیا ہے تاہم اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

اس پيش رفت کے چند روز بعد صدر اردگان نے ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر ديا تھا، عموماً ہنگامی حالت کا نفاذ تين ماہ تک جاری رہتا ہے ليکن اس ميں سات مرتبہ توسيع کی گئی۔

ایک جانب ایمرجنسی کا خاتمہ کیا جارہا ہے تو دوسری جانب فوجی بغاوت میں ملوث لوگوں کا ٹرائل بھی جاری ہے اور اب تک فوجیوں اور صحافیوں کے علاوہ دیگر ملوث افراد کو سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔

خیال رہے کہ اب تک 1 لاکھ 7 ہزار افراد کو ریاست کے خلاف بغاوت کرنے کے شبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے بعد عوامی ملازمتوں سے جبراً دستبردار کردیا تھا، جن میں سے 50 ہزار افراد کو ٹرائل کے بعد جیل منتقل کردیا تھا۔

واضح رہے کہ 18 جولائی 2016 کو ترکی میں فوج کے باغی گروہ نے اقتدار پر قابض ہونے کی کوشش کی تھی جسے عوام نے ناکام بنادیا تھا، اس دوران عوام سڑکوں پر نکل کر آئے اور فوجی ٹینکوں کے سامنے ڈٹ گئے تھے جس کے بعد ترک فوج کے باغی ٹولے نے ہتھیار ڈال کر اپنی شکست تسلیم کی تھی اور پھر انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں