The news is by your side.

Advertisement

ترکی: بغاوت کے الزام میں سینکڑوں افراد کو سزائیں

انقرہ: ترکی میں سال دوہزار سولہ کی ناکام بغاوت سے تعلق رکھنے والے فوجی اہلکاروں اور عام شہریوں کو سزائیں دے دی ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق ترکی کی ایک عدالت نے سال دوہزار سولہ میں ناکام بغاوت سے تعلق کے الزام میں تیس سو سے زائد فوجی اہلکاروں اور عام شہریوں کو عمر قید کی سزا سنائی۔

ترک حکومت سے وابستہ نیوز ایجنسی انادولُو کے مطابق عمر قید کی سزا پانے والوں میں فضائیہ کے سابقہ پائلٹ بھی شامل ہیں جنہوں نے بغاوت کے دوران سرکاری عمارتوں پر فضائی حملے کیے تھے، اس کے علاوہ چار عام شہریوں پر دارالحکومت کے ایک ایئر بیس میں اس سازش کی معاونت کا الزام ہے، مذکورہ ایئر بیس ہیڈ کوارٹر کے طور پر استعمال ہوا تھا۔ترک سرکاری ایجنسی کے مطابق عدالت میں چار سو پچھہتر ملزمان کا چالان پیش کیا گیا تھا، جس میں سے تین سو سینتیس کو سزا سنائی گئی۔

یاد رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش جولائی دو ہزار سولہ میں ہوئی تھی، اس بغاوت کو راتوں رات ناکام بنا دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 251 افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔

 

ترکی اس ناکام بغاوت کا ذمےدار فتح اللہ گولن کو ٹہراتا ہے، فتح اللہ گولن ان دنوں امریکا میں مقیم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  فتح اللہ گولن کی حوالگی تک امریکا پر دباو ڈالتے رہیں گے، ترکی

امریکی صدارتی الیکشن میں جوبائیڈن کی کامیابی کے بعد ترکی کے نائب صدر فوئیٹ اوکٹائے نے کہا تھا کہ طیب اردوان کا تختہ الٹنے کی کوشش کرنے والا ماسٹر مائنڈ امریکا میں موجود ہے اور ترکی اس کی حوالگی کا مطالبہ کرتا رہے گا جب تک امریکا اسے ترکی کے حوالے نہیں کردیتا، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ امریکا دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ کام کرنا بند کردے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں