The news is by your side.

Advertisement

ترکی میں آن لائن مواد کی نگرانی اور سینسر شپ کے حوالے سے غیر معمولی اقدام

انقرہ : ترکی نے آن لائن مواد کی نگرانی و سینسر شپ کے حوالے سے ملک بھر میں ریڈیو اور ٹی وی کی نگرانی کرنے والے واچ ڈاگ کو وسیع اختیارات دے دئیے۔

تفصیلات کے مطابق ترکی نے ملک میں ریڈیو اور ٹی وی کی نگرانی کرنے والے واچ ڈاگ کو وسیع اختیارات دے دئیے ۔ اس اقدام کا مقصد نیٹ فلیکس اور دیگر براہ راست نشریات کی حامل نیوز ویب سائٹس کے آن لائن مواد پر نظر رکھنا ہے۔ اس اقدام نے ممکنہ سینسر شپ لاگو کیے جانے کے حوالے سے تحفظات پیدا کر دیے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ترکی کی پارلیمنٹ نے رواں سال مارچ میں ابتدائی طور پر اس اقدام کی منظوری دی تھی۔ صدر رجب طیب ایردوآن کی حکمراں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی اور اس کے قوم پرست حلیفوں نے فیصلے کی حمایت کی تھی۔

اس قانون کے تحت ترکی میں آن لائن مواد سے متعلق خدمات پیش کرنے والے تمام فریقوں کو ملک میں ریڈیو اینڈ ٹیلی وڑن واچ ڈاگ کی طرف سے نشریاتی لائسنس حاصل کرنا ہو گا۔ اس کے بعد یہ واچ ڈاگ مذکورہ فریقوں کی جانب سے نشر ہونے والے مواد کی نگرانی کیا کرے گا۔

نئے اقدامات کا اطلاق ڈیجیٹل اسٹریمنگ جائنٹ نیٹ فلیکس کمپنی جیسی سبسکرپشن سروس کے علاوہ مفت سروس فراہم کرنے والی نیوز ویب سائٹس پر بھی ہو گا جو اپنی آمدنی کے واسطے اشتہارات پر انحصار کرتی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ مزید برآں جو کمپنیاں مذکورہ قانون اور واچ ڈاگ کی ہدایات کے تحت عمل نہیں کریں گی انہیں اپنا مواد مطلوبہ معیار کے موافق بنانے کے لیے 30 روز کا وقت دیا جائے گا، بصورت دیگر ان کمپنیوں کو دیے گئے لائسنس کو معطل کرنے کا امکان ہو گا اور بعد ازاں اس لائسنس کو واپس بھی لیا جا سکتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ جاری فیصلے کے حوالے سے پورے کیے جانے والے اُن معیارات کو واضح نہیں کیا گیا جن کی واچ ڈاگ توقع رکھتا ہے۔

استنبول کی ایک یونیورسٹی میں سائبر سیکورٹی کے ماہر اور قانون کے پروفیسر یامان ایکڈنیز کے مطابق یہ اقدام اُن عدالتی اصلاحات کے پیکج سے متصادم ہے جس کا ترکی نے حالیہ عرصے میں اعلان کیا تھا۔ اس پیکج کا مقصد ترکی میں انسانی حقوق کی صورت حال بگڑنے سے متعلق یورپی یونین کے اندیشوں کا علاج ہے۔

یامان نے ٹویٹر پر اپنے تبصرے میں کہا کہ واچ ڈاگ کو سینسر شپ کے اختیارات ملنے سے متعلق قانون آج سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ جلد ہی نیٹ فلیکس یا ن نیوز ویب سائٹس پر پابندی کی لپیٹ میں آ سکت ہیں جو اپنا مواد بیرون ملک سے نشر کرتی ہیں،انسانی حقوق کے ایک وکیل کریم التیبار میک نے باور کرایا کہ یہ ترکی میں سینسر شپ کی تاریخ کا سب سے بڑا اقدام ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے حکومت مخالف خبریں نشر کرنے والی ویب سائٹس متاثر ہوں گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں