The news is by your side.

Advertisement

ترکی کے وزیراعظم کا عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ

انقرہ: ترکی کے وزیراعظم داؤداوغلو کا کہنا تھا کہ وہ حکمران پارٹی کے رہنما کی حیثیت سےد وبارہ نہیں کھڑے ہونگے.

تفصیلات کے مطابق صررطیب ارگان کی جانب سے ترکی کی سیاسی منظرنامے کو صدراتی نظام میں تبدیل کرنے کے لئے مہم چلائی جارہی ہے، جبکہ وزیراعظم نے رجب طیب اردگان سے اختلافات کے بعد مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے.

انہوں نے اپنی تقریر کے دوران اپنے بطور وزیراعظم دور کا دفاع کرتے ہویے کہا کہ وہ مشکل وقت میں اپنی پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے.

پارٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ایک اجلاس کے بعد، داؤد اوغلو نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ موجودہ حالات میں اے کے پی پارٹی کی قیادت کے لئے 22 مئی کو ہونے والے انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے.

انہوں نے کہا کہ میں نے پارٹی کے ارکان سے کہا کہ اب تک میں آپکی قیادت کررہاتھا، لیکن آج سے میں آپ میں سے ہوں ، انہوں نے کہا کہ بطور پارٹی ممبر وہ اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گیں.

ترکی کو اس سال عام انتخابات کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ رجب طیب اردگان کی جانب سے صدراتی نظام کو مضبوط کرنا ان کی حکمت عملی میں شامل ہے.

داؤد اوغلو نے اردگان کی حمایت کی پیکش کی ہے،ان کے بعد آنے والا جانشین اردگان کی خوائش کی حمایت کرے گا، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے اردگان کی جانب سے آئین میں صدراتی نظام کو متعارف کروانے سے ملک میں آمریت آئے گی.

مہمت علی کی جانب سے اکتوبر اور نومبر کے درمیان انتخابات کی پیشن گوئی کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ اب سے ترکی کا ایجنڈا صدراتی نظام کو لانا ہے، اور اردگان کی جانب سے انتخابات میں بھرپور کوشش کی جائے گی.

اردگان کی خوائش ہے کہ ترکی میں صدارتی نظام ہو اور صدر ریاست کا سربراہ ہو جکہ مخالفین کی جانب سے اسے اردگان کی محض ایک ذاتی خوائش سمجھا جارہا ہے.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں