The news is by your side.

Advertisement

روسی میزائل کی خریداری کا معاملہ، ترک صدر ٹرمپ سے ملاقات کے منتظر

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوگان امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے منتظر ہیں جس میں روسی میزائل کی خریداری کا معاملہ زیر بحث آئے گا۔

تفصیلات کے مطابق ترکی کی جانب سے روس کے ایس 400 میزائلوں کی خریداری پر امریکا ترکی کو خبردار کرچکا ہے، لیکن انقرہ حکام میزائل ڈیل کرنے پر بضد ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی کے صدر روسی میزائلوں کی خرید پر موجود تلخی کو دور کرنے کے لیے امریکی صدر سے خصوصی طور پر ملیں گے۔

ترکی نے روس کے ساتھ ان میزائلوں کی خریداری کیلئے ڈھائی ارب ڈالر کا معاہدہ طے کیا ہے، جس پر امریکا نے متعدد بار ترک حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

البتہ ترک حکام نے وضاحت کی ہے کہ ان میزائلوں کی خریداری کا مقصد اپنے دفاعی نظام اور مزید مؤثر بنانا اور مضبوط کرنا ہے۔

غیر ملکی خبرمیڈیا کے مطابق ترک صدر جاپان میں جاری جی ٹوئنٹی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر سے ملاقات کریں گے، علاوہ ازیں وہ روسی ہم منصب ولادی میرپیوٹن سے بھی ملیں گے۔

روسی میزائل سسٹم کے حوالے سے امریکا کی ترکی کو آخری وارننگ

خیال رہے کہ امریکا نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ جدید ترین ایس 400 میزائلوں سے نیٹو کے دفاعی نظام سمیت امریکا کے جدید ترین ایف 35 لڑاکا طیاروں کو خطرات لاحق ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سال 2017 میں بعض رپورٹوں سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ انقرہ نے ایف 400 میزائل نظام کے حصول کے لیے کرملن کے ساتھ 2.5 ارب ڈالر مالیت کی ڈیل طے کی تھی۔

اگرچہ امریکا کی جانب سے خبردار کیا جاتا رہا کہ اس نظام کی خریداری کے نتیجے میں سیاسی اور اقتصادی نتائج مرتب ہوں گے۔ترکی کو ایس 400 نظام کی خریداری سے روکنے پر قائل کرنے کے واسطے امریکی وزارت خارجہ نے 2013 اور 2017 میں پیٹریاٹ میزائل نظام فروخت کرنے کی پیش کش کی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں