The news is by your side.

Advertisement

ایرانی تیل کی خریداری، ترکی نے امریکی فیصلہ مسترد کردیا

انقرہ: ترک حکومت نے ایرانی تیل کی خریداری پر عائد ہونے والی پابندی کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرز کے فیصلے ناقابلِ قبول ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ترکی نے امریکا کی جانب سے ایرانی تیل کی خریداری پردی گئی مہلت ختم کرنے کا ٹرمپ کے فیصلے کی کھل کر مخالفت کردی۔ عرب ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ترک وزیرخارجہ مولود جاووش اوگلو نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کی طرف سے ایرانی تیل پرپابندیوں کا نفاذ علاقائی اور امن وستحکام میں معاون ثابت نہیں ہوگا بلکہ اس سے صورتحال مزید خراب ہوگی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ترکی ایرانی تیل پر امریکی پابندیوں کے فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا کیونکہ وائٹ ہاؤس انتظامیہ کے اقدامات اور فیصلے یک طرفہ ہیں اور ہم اپنے پڑوسی ملک سے امریکا کی خاطر تعلقات خراب نہیں کرسکتے۔

مزید پڑھیں: ایرانی تیل درآمد کرنے والے ممالک کے سر پر امریکی پابندیوں کی تلوار

یاد رہے کہ ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ ’ایران سے تیل کی خریداری پر دی جانے والی چھوٹ ختم ہوجائے گی جس کا اطلاق 2 مئی سے ہوگا‘‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ امریکا کی طرف سے چین،بھارت، جنوبی کوریا، ترکی، جاپان، تائیوان،اٹلی اور یونان کو 2 مئی 2019 تک ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کی مہلت دی گئی تھی جس ختم ہونے کو ہے اور اب ٹرمپ انتظامیہ مزید توسیع کے حق میں نہیں ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق نومبر میں امریکا نے ایرانی تیل کی برآمدات پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا، واشنگٹن کی جانب سے تہران پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے دائرے کو کم کرے اور مشرق وسطی میں شدت پسندوں کے لیے اپنی سپورٹ کا سلسلہ بند کرے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں