site
stats
عالمی خبریں

ترکی میں شعبہ تدریس سے وابستہ 3000 افراد معطل

استنبول: ترکی میں حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کے بعد گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حال ہی میں مختلف جامعات میں مختلف شعبہ جات کے 1600 سربراہان کو برطرف اور محکمہ تعلیم کے 1500 ملازمین کو ان کے عہدوں سے معطل کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ کی شب ترکی میں فوج کے ایک گروہ نے بغاوت کی جس کے بعد صدر اردگان کی اپیل پر لوگ بھرپور احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور سڑکوں پر گشت کرتے باغی ٹولے کے ٹینکوں کے سامنے ڈٹ گئے۔

اوباما کی ترکی میں ناکام بغاوت کی تحقیقات میں مدد کی پیشکش *

ترک عوام نے ٹینکوں اور باغی دستوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔ جمہوریت کی طاقت سے باغی ٹولہ پسپا ہونے پر مجبور ہوا اور عوام نے سرکاری عمارتوں سے باغی فوجیوں کونکال باہر کردیا۔

ترکی میں حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کے دوران 265 افراد ہلاک ہوئے جس میں سازش کی منصوبہ بندی کرنے والے 104 افراد اور 161 عام شہری شامل ہیں۔

ترکی میں فوجی بغاوت کی سیاہ تاریخ *

ترک صدر طییب اردگان نے اس بغاوت کا الزام جلا وطن ترک لیڈر فتح اللہ گولن پر عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ بغاوت کرنے والے گولن کی تحریک میں شامل اور ان کے نظریات سے متاثر تھے۔

تاہم نیویارک میں مقیم فتح اللہ گولن نے اس الزام کی سختی سے تردید کردی تھی۔

استنبول کے ڈپٹی میئر پر قاتلانہ حملہ *

ترکی میں اب تک پولیس افسران، حکومتی عہدیداران، فوج کے اعلیٰ افسران اور 27 سو ججوں سمیت 9000 افراد کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا جاچکا ہے جبکہ فوج کے جرنیلوں سمیت ساڑھے 7 ہزار افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

دوسری جانب باغیوں کی طرف سے انتقام کی دھمکیوں کے بعد ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے سختی سے تنبیہہ کی ہے کہ کوئی بھی شخص ان باغیوں کی حمایت سے باز رہے۔

دنیا بھر میں ہونے والی فوجی بغاوتیں *

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد 1800 اسپیشل فورسز کے جوانوں کو استنبول میں تعینات کردیا گیا ہے۔ اسپیشل فورسز کے دستے تاحال شہر میں گشت کر رہے ہیں۔ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ کوئی بھی ہیلی کاپٹر نظر آئے تو اسے مار گرایا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top