site
stats
عالمی خبریں

انقرہ: دہشتگردی کے شبے میں 28ہزار ترک اساتذہ برطرف

انقرہ : ترکی میں حکومت نے دہشتگردوں سے مبینہ تعلق کے شبے میں اٹھائیس ہزار اساتذہ کو برطرف اور معطل کر دیا۔

ترکی کے نائب وزیراعظم کے مطابق دہشت گردوں سے تعلق کی بنیاد پر ملکی تعلیمی اداروں سے تقریبا اٹھائیس ہزار اساتذہ کو برطرف کر دیا گیا ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ برطرف اساتذہ کےعلاوہ نو ہزار سے زائد اساتذہ کو دہشت گردوں سے روابط کے شبے میں معطل بھی کیا گیا ہے جبکہ ساڑھے چار سو سے زائد اساتذہ کو پوچھ گچھ کے بعد دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔


مزید پڑھیں : ترکی میں شعبہ تدریس سے وابستہ 3000 افراد معطل


اس سے قبل گیارہ ہزار اساتذہ کو مبینہ طور پر کالعدم کردستان ورکرز پارٹی سے روابط کے الزام میں معطل کیا تھا، ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم کا کہنا ہے کہ 14 ہزار اساتذہ ایسے ہیں جس کے روابط شدت پسند کارروائیوں سے ہیں۔

خیال رہے کہ ترکی اور مغربی ممالک کردستان ورکرز پارٹی کو دہشت گرد قرار دے چکی ہے۔


مزید پڑھیں : ناکام فوجی بغاوت، اساتذہ ، سرکاری ملازمین اور صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز


یاد رہے کہ جولائی میں ناکام بغاوت کے بعد ترک حکومت اب تک سیکڑوں فوجی افسران سمیت مختلف اداروں میں کام کرنے والے ہزاروں افراد کو برطرف کرچکی ہے جبکہ ترک حکومت بغاوت کی اس ناکام کوشش کی ذمے داری جلاوطن ترک مبلغ فتح اللہ گولن پرعائدکرتی ہے اوران کے حامیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع کیا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ ترکی میں فوج کے ایک گروہ نے بغاوت کی، جس کے بعد صدر اردگان کی اپیل پر لوگ بھرپور احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور سڑکوں پر گشت کرتے باغی ٹولے کے ٹینکوں کے سامنے ڈٹ گئے، ترک عوام نے ٹینکوں اور باغی دستوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔ جمہوریت کی طاقت سے باغی ٹولہ پسپا ہونے پر مجبور ہوا اور عوام نے سرکاری عمارتوں سے باغی فوجیوں کونکال باہر کردیا۔


مزید پڑھیں: ترکی میں بغاوت کی کوشش عوام نے ناکام بنادی، 265 سے زائد افراد ہلاک


ترکی میں حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کے دوران 265 افراد ہلاک ہوئے، جس میں سازش کی منصوبہ بندی کرنے والے 104 افراد اور 161 عام شہری شامل تھے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top