انقرہ: ترکیہ کے جنوب مشرقی علاقے میں ایک ہائی اسکول میں مسلح شخص کی فائرنگ سے کم از کم 16 افراد زخمی ہو گئے جبکہ حملہ آور نے بعد ازاں اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکام نے بتایا کہ 18 سالہ سابق طالب علم نے صوبہ شانلی عرفہ کے علاقے سیورک میں واقع ایک ووکیشنل ہائی اسکول میں شاٹ گن سے اندھا دھند فائرنگ کی۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد اسکول کی عمارت میں چھپ گیا اور بعد میں اسی ہتھیار سے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
🇹🇷 A shooting has been reported at a school in Siverek, with several people said to be injured
According to local reports, the attacker entered the building and opened indiscriminate fire.
Footage shows children fleeing the school in panic, with sirens heard in the background. pic.twitter.com/BDq5COw6Nc
— Visegrád 24 (@visegrad24) April 14, 2026
گورنر حسن شلداک کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ زخمیوں میں 10 طلبا، 4 اساتذہ، کینٹین کا ایک ملازم اور ایک پولیس اہلکار شامل ہیں۔ بیشتر زخمیوں کو مقامی اسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے جبکہ 5 شدید زخمیوں کو صوبائی دارالحکومت کے اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔
تمام طلبا کو واقعے کے بعد اسکول سے نکال لیا گیا جبکہ پولیس کے خصوصی دستے موقع پر پہنچ گئے اور بچوں کو حصار میں لے لیا۔
افسردہ ہوں کہ امریکا کے پاس باعثِ شرم صدر ہے، ہیلری کلنٹن
سابق طالب علم نے اسکول میں فائرنگ کیوں کی، اس کی تاحال وجہ معلوم نہیں ہوسکی، حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


