ترکی نہیں جانا چاہتے، پاکستان میں ہی رہنے کی اجازت دی جائے، ترک اساتذہ turki
The news is by your side.

Advertisement

ترکی نہیں جانا چاہتے، پاکستان میں ہی رہنے کی اجازت دی جائے، ترک اساتذہ

کراچی : پاک ترک اسکول کے اساتذہ نے کہا ہے کہ ہم یہاں گزشتہ 22 سال سے درس و تدریس میں مشغول ہیں اور ماضی گواہ ہے کہ ہمارا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے چنانچہ ہمیں پاکستان بدر کرنے کے بجائے یہاں رہنے دیا جائے.

وہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے ترک فیملی کو ملک بدر کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 22 سالوں میں اچھے برے حالات میں بچوں کی تعلیم کو جاری رکھا ہے۔

ترک اساتذہ نے بتایا کہ نومبر 2016 میں وزارتِ داخلہ نے ترک اساتذہ کے ویزوں میں اضافے سے انکارکرتے ہوئے ہمیں 20 نومبر 2016 کو خاندان سمیت پاکستان سے جانے کا حکم دیا گیا اور اگر ہم ترکی جاتے ہیں تو وہاں گرفتار ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمیں پناہ گزین کے تحت دی جانے والی حیثیت سے سکون کے ساتھ رہنے دیں کیوں کہ ہمارا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔

ترک اساتذہ نے کہا کہ ہم نے گزشتہ 22 سال سے صرف درس و تدریس کا کام کیا ہے اور کبھی کسی سیاسی پروپیگنڈے یا ایجنڈے کے تحت مغلوب ہو کر سیاسی سرگرمیاں انجام نہیں دیں.

خیال رہے ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترک اپوزیشن لیڈر فتح گولن کو بغاوت کی وجہ سمجھا جارہا ہے چنانچہ فتح گولن کی تنظیم کے تحت چلنے والے اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے بعد پاکستان میں قائم پاک ترک اسکول بھی بند کردیئے گئے ہیں.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں