site
stats
پاکستان

لاہورہائیکورٹ میں ترک خاندانوں کی جبری ملک بدری کیس کی سماعت

لاہور : ترک خاندانوں کی جبری ملک بدری کے خلاف درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے تیرہ اور چودہ اکتوبر کو بیرون ملک جانے والے مسافروں کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے ترک خاندانوں کی جبری ملک بدری کے خلاف درخواست پر کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ترکی میں سیاسی عدم استحکام کے باعث پاکستان میں مقیم طیب اردگان کے مخالفین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود پاکستان میں رہائشں پذیر ترک خاندانوں کو جبری طور پر پاکستان بدر کیا جا رہا ہے، وزارت داخلہ کی جانب سے جواب داخل کراتے ہوئے کہا گیا کہ ترک خاندان کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے حساس اداروں کو خط لکھا ہے۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بادی النظر میں عدالت کی حکم عدولی نہیں ہوئی، انہوں نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ ملک میں موجود نہیں جس کی وجہ سے ترک شہریوں کی فہرست عدالت میں پیش کرنے کے لئے مہلت دی جائے۔

عدالتی حکم پر سول ایوی ایشن حکام نے ترکی سے آنے والی پروازوں کے ڈیٹا عدالت میں پیش کر دیا، عدالت نے تاحکم ثانی ترک شہریوں اور اساتذہ کو ہراساں کرنے سے روکنے کے عدالتی حکم پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے لاپتہ ترکوں کو بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کرنے اور پاکستان میں رہائش پذیر ترک خاندانوں کی فہرست عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے ہدایت کی کہ تیرہ اکتوبر اور چودہ اکتوبر کو بیرون ملک جانے والے مسافروں کی تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں، عدالت نے کیس کی مزید سماعت سات نومبر تک ملتوی کر دی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top