The news is by your side.

Advertisement

ترک حکام نے دوبارہ فوجی آپریشن شروع کرنے کی دھمکی دے دی

انقرہ: ترکی نے شام میں فوجی آپریشن پھر سے شروع کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ 35 گھنٹوں میں کرد ملیشیا نے انخلاء نہ کیا تو ہم آپریشن بحال کردیں گے۔

تفصیلات کے مطابق ترک وزیرخارجہ میولود چاوش کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ ترکی نے کرد ملیشیا کے شمالی شام سے انخلا نہ ہونے کی صورت میں پھر سے فوجی آپریشن شروع کردیا جائے گا، ہمارے پاس 35گھنٹے ہیں۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترک وزیر خارجہ میولود چاوش نے خبردار کیا کہ اگر کرد ملیشیا نے امریکا کی طرف دی گئی سیز فائر کی ڈیڈلائن کے ختم ہونے سے پہلے خطے سے انخلا نہیں کیا تو ترکی شمالی شام میں دوبارہ فوجی آپریشن شروع کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اس لیے بھی ہے کہ ہم نے امریکیوں سے اس پر کرد جنگجوؤں کے انخلا پر اتفاق کیا تھا، کرد باغی امریکی ڈیل پر عمل کرتے ہوئے ان علاقوں سے انخلا کررہے تھے جن کو 9 اکتوبر کے حملے کے بعد ترکی کنٹرول کرتا ہے۔

ترک صدر نے کرد جنگجوؤں کو سنگین نتائج کی دھمکی دے دی

ترکی وزیر خارجہ نے الزام لگایا کہ کرد ملیشیا کے گروپ نے معاہدے کے دوران 30 مرتبہ براہ راست فائرنگ کی جس سے ایک ترکی فوجی بھی ہلاک ہوگیا اس لیے ترکی ان حملوں کا بدلہ لے گا۔

دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے بھی دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر معاہدے پر عمل نہ ہوا تو کردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں