The news is by your side.

ترکیہ نے یورپی یونین کو صاف جواب دے دیا

استنبول : ترکیہ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ قبرصی ترک عالمِ ترک کا ایک ناگزیر حصہ ہیں، ہم یورپی یونین کے بیان کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ترک حکومتوں کے ساتھ ہر شعبے میں تعلقات کو فروغ دینا ان کا بنیادی حق ہے، ہم شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کی ترک حکومتوں کی کمیٹی ٹی ڈی ٹی میں بحیثیت مبصر رکنیت سے متعلق یورپی یونین خارجہ تعلقات سروس کے جاری کردہ بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔

ترکیہ وزارت خارجہ کے جاری کردہ تحریری بیان میں گزشتہ روز ازبکستان کے شہر سمر قند میں ٹی ڈی ٹی سربراہی اجلاس کی رائے شماری میں شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کی بحیثیت مبصر رکنیت کی منظوری کی یاد دہانی کروائی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کی رکنیت کے بارے میں آج یورپی یونین خارجہ تعلقات سروس کے جاری کردہ بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی اپیل کے برعکس شمالی قبرصی ترکوں کی بین الاقوامی برادری کا باوقار رکن بننے کی کوشش میں مزاحم ہونا نیک نیتی پر مبنی نہیں ہے۔

یہی نہیں یہ اقدام ایک دفعہ پھر یونانی قبرص انتظامیہ اور یونان کی بانجھ سیاست کی اسیر یورپی یونین کے دوغلے پن کو منظر عام پر لے آیا ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ جزیرہ قبرص میں منصفانہ اور پائیدار حل کا عمل صرف اور صرف قبرصی ترک عوام کے 1963 سے غصب شدہ حقِ خودمختاری اور مساوی بین الاقوامی حیثیت کو تسلیم کرنے سے ہی شروع ہو سکتا ہے۔

لہٰذا بین الاقوامی برادری کو اب قبرصی یونانی فریق کو جزیرے کا واحد مالک سمجھنے سے باز آجانا اور شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کو تسلیم کر لینا چاہیے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ترکیہ ہر طرح کے حالات میں شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کا ساتھ دینا اور بین الاقوامی پلیٹ فورمز پر قبرصی ترکوں کی آواز بننا جاری رکھے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں