The news is by your side.

ترک صدر نے ایک بار پھر کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں اٹھا دیا

نیویارک : ترک صدر اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر ایک بار پھر اٹھادیا اور کہا امید کرتے ہیں مسئلہ کشمیر کا ایک منصفانہ حل نکلے۔

تفصیلات کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کو اٹھایا۔

اردگان نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 75 سال قبل اپنی خودمختاری اور آزادی کے قیام کے بعد بھی ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کے درمیان امن اور یکجہتی برقرار نہیں رکھ سکے ، یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ ہم امید اوردعا کرتے ہیں مسئلہ کشمیر کا ایک منصفانہ حل نکلے اور مستقل امن اور خوشحالی قائم ہو۔

یاد رہے حالیہ برسوں میں اردگان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں کئی بار مسئلہ کشمیر کا حوالہ دیا ہے۔

جس کے باعث ہندوستان اور ترکی کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوگیا، ہندوستان نے ماضی میں اردگان کے بیانات پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیا۔

ہندوستان کہتا رہا ہے کہ ترکی کو دوسرے ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا سیکھنا چاہئے، یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے آج تک ترکی کا سفر کرنے سے گریز کیا ہے۔

یاد رہے ترک صدر اردگان نے ازبکستان کے شہر سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تھی۔

سمرقند میں ہونے والی ملاقات کے دوران انہوں نے دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

ایس سی او سربراہی اجلاس کے موقع پر دونوں رہنماؤں کی اچانک ملاقات نے بھی پوری دنیا کو چونکا دیا تھا۔ لیکن اس ملاقات کے چند دن بعد ہی کشمیر کے بارے میں اردگان کی بیان بازی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں