ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے اور ہم غزہ کے لیے پریشان ہیں، غزہ کی عوام کے زخموں پر مرحم رکھنے اور وہاں تعمیر نو کی ضرورت ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان کا ترک افریقہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم نے حماس اور اسرائیلی کے درمیان معاہدے کے لیے سخت کوششیں کی تھیں تاکہ غزہ میں امن قائم ہوسکے اور وہاں کے عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔
صدر طیب اردوان نے مزید کہا کہ وہ سوڈان میں جاری بحران پر پریشان ہیں اور وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہاں امن قائم ہوجائے۔
انہوں نے مغربی دنیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کے لوگ دیکھ رہے ہیں کہ برِاعظم افریقہ میں تنازعات اور خانہ جنگی ہو رہی ہے، لیکن یہ کچھ نہیں کرتے۔
اس سے قبل صدر اردوان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ خلیجی ممالک، امریکا اور یورپی ممالک سے غزہ کی تعمیرنو کیلیئے تعاون طلب کریں گے امید ہے غزہ کیلئے مالی معاونت جلد فراہم کی جائیگی۔
غزہ میں دو سال بعد تباہ حال مساجد آباد ہونے لگیں، نماز جمعہ کی ادائیگی
طیب اردوان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک کا فلسطین کو تسلیم کرنا دو ریاستی حل کی جانب اہم پیشرفت ہے غزہ کی تعمیرنو خطے کے امن اور استحکام کیلیے ناگزیر ہے۔
اردوان اعلان بھی کر چکے ہیں کہ انقرہ جنگ بندی معاہدے کی نگرانی کے لیے ایک ”ٹاسک فورس“ میں حصہ لے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ ہم اس ٹاسک فورس میں شامل ہوں گے جو زمین پر معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کرے گی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


