انقرہ(13 مارچ 2026): ترکیہ کے وزیر ٹرانسپورٹ عبدالقادر اورال اوغلو نے اعلان کیا ہے کہ ترک ملکیت کا ایک بحری جہاز ایرانی حکام کی خصوصی اجازت کے بعد آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
ترک وزیر کے مطابق ترکیہ کی ملکیت کے 15 بحری جہاز ایران کے سمندری حدود کے قریب انتظار میں تھے، جس کے بعد انقرہ اور تہران کے درمیان اعلیٰ سطح پر رابطے کیے گئے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں ایک جہاز کو ایرانی حکام کی جانب سے راستہ دینے کی خصوصی اجازت ملی۔
وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ترکیہ سے تعلق رکھنے والے 15 جہاز موجود تھے، ہم نے ایرانی حکام سے ان میں سے ایک جہاز کے لیے اجازت حاصل کر لی ہے، جس نے ایرانی بندرگاہ استعمال کی تھی، اور وہ اب گزر چکا ہے۔ وزارت کے مطابق آبنائے ہرمز عبور کرنے والے اس جہاز کا نام ‘روزانہ’ ہے، جبکہ علاقے میں موجود ترک بحری جہازوں پر مجموعی طور پر 171 عملہ سوار ہے۔
واضح رہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں ایران نے تزویراتی طور پر انتہائی اہم سمندری راستہ ‘آبنائے ہرمز’ بند کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی آمد و رفت معطل ہے۔
ترک وزیر نے مزید بتایا کہ باقی ماندہ جہازوں کی بحفاظت واپسی یا گزرگاہ کے حصول کے لیے تہران کے ساتھ سفارتی رابطے مسلسل جاری ہیں۔ اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں ترکیہ اور ایران کے درمیان مضبوط سفارتی تعلقات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


