site
stats
عالمی خبریں

شادی کی تقریب میں دھماکہ ’بارہ سے چودہ سالہ لڑکے‘نے کیا،ترک صدر

انقرہ : ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ ہفتے کی شب غازی عنتب شہر میں شادی کی ایک تقریب میں ہونے والا دھماکہ ایک خوش کش حملہ تھا جو بارہ سے چودہ سال کے ایک لڑکے نے کیا تھا.

تفصیلات کے مطابق شام کی سرحد کے قریب واقع شہر غازی عنتب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے کئی خفیہ سیل موجود ہیں.

شادی کی تقریب پر حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے صدر اردگان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں 50 افراد ہلاک جبکہ 69 زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 17 بری طرح زخمی ہیں.

*ترکی میں شادی کی تقریب کے قریب دھماکہ،30افراد جاں بحق

یہ حملہ اس وقت ہوا جب شادی میں شریک لوگ گلی میں رقص کر رہے تھے.صدر رجب طیب اردگان نے اس دھماکے کا الزام شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ پر عائد کیا ہے.

یاد رہے کہ مئی میں اس شہر میں ایک خود کش بمبار نے دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا تھا.

ترک صدر کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں صدر نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ اور ’پی کے کے‘ کےکرد جنگجوؤں میں کوئی فرق نہیں ہے.ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کے لیے ایک ہی پیغام ہے کہ ’تم کامیاب نہیں ہوں گے۔‘

*ترکی میں ایک اور کار بم دھماکہ، 3 افراد ہلاک اور 40 زخمی

یاد رہے کہ چارروز قبل ترکی کے مشرقی صوبے وان میں ہونے والے کار بم دھماکے میں 3 افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ صدر طیب اردگان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے حملوں کا مقصد ترکی کی مختلف نسلی اور مذہبی برادریوں کے درمیان تقسیم کے بیج بونا ہے.

 

 

 

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top