شام میں ترکی کے فضائی حملے،35 شدت پسند ہلاک -
The news is by your side.

Advertisement

شام میں ترکی کے فضائی حملے،35 شدت پسند ہلاک

انقرہ : ترک صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ ترکی شام میں کرد جنگجوؤں کے ساتھ اُسی عزم سے لڑے گا جیسے وہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے لڑ رہا ہے.

تفصیلات کے مطابق ترکی کی افواج نے شام میں جرابلس کے قریب کرد علاقوں میں بمباری کی،جس میں 35فراد ہلاک ہوئے ہیں.ترک فوج کا کہنا ہے کہ فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے کرد شدت پسند تھے.

یہ فضائی حملےترکی کی جانب سے شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور کر جنگجوؤں کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن کے پانچویں روز کیا گیا.

*ترکی میں دھماکہ، 9افراد ہلاک، 64زخمی

خیال رہے کہ گزشتہ روزصدر رجب طیب اردگان نے جنوبی شہر غازی عنتب کا دور کیا جہاں گذشتہ ہفتے ایک خود کش دھماکے 50 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے.

*ترکی میں شادی کی تقریب کے قریب دھماکہ،50افراد جاں بحق

غازی عنتب کے دورے کے دوران ترک صدر نے کہا کہ ’ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف آپریشن اُن کے خاتمے تک جاری رہے گا۔‘

*ترکی کی شامی قصبے جرابلس میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری

ترکی کی افواج نے شامی باغیوں کی حمایت سے دولت اسلامیہ کو پسپا کیا ہے اور اُن کی کرد جنگجوؤں سے بھی جھڑپیں جاری ہیں.

سیئرین آوبزیرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق جبل الکوثہ کے قریب فضائی بمباری میں 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ایک دوسرے واقعے 15 افراد مارے گئے ہیں.

ترکی کی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اُس نے 25 کرد جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے جو پی وائی ڈی کے اراکین تھے.

جبل الکوثہ کا علاقہ شام کے سرحدی شہر جرابلس سے 14 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور اس علاقے میں کرد افواج اور مقامی جنگجوؤں کا کنٹرول ہے۔

واضح رہے ہفتے کو ترکی کے ٹینک پر راکٹ داغا گیا تھا جس سے ترکی کا ایک فوجی ہلاک ہو گیا تھا.ترکی نے راکٹ حملے کا الزام کرد ملیشیا پر عائد کیا تھا.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں