پانڈا کو اپنے گھر کی یاد ستانے لگی -
The news is by your side.

Advertisement

پانڈا کو اپنے گھر کی یاد ستانے لگی

آپ جب بھی کسی جگہ سے نئی جگہ منتقل ہوتے ہوں گے تو آپ کو نئی جگہ سے مطابقت پیدا کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔ کچھ افراد جب گھر سے دور ہوتے ہیں تو انہیں بری طرح گھر کی یاد ستاتی ہے اور وہ ہوم سکنیس کا شکار ہوجاتے ہیں۔

یہ صرف انسانوں ہی نہیں بلکہ جانوروں کا بھی مسئلہ ہے۔ ایسی ہی ہوم سکنیس کا شکار آج کل دو پانڈا بھی ہیں جو امریکا سے چین لائے گئے ہیں اور یہ اپنے گھر کو بری طرح یاد کر رہے ہیں۔

panda-3

یہ جڑواں پانڈا می لن اور می ہان جن کی عمریں 3 سال ہیں ان پانڈا میں سے ہیں جو امریکا میں پیدا ہوئے اور بغیر کسی بیماری کے 3 سال کی عمر تک پہنچ گئے۔ ان پانڈا کی مزید بہتر طریقے سے دیکھ بھال کرنے کے لیے انہیں چین کے تحقیقی مراکز برائے پانڈا میں منتقل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ چین اس وقت پانڈا کی نسل کے تحفظ کے لیے بے شمار اقدامات اٹھا رہا ہے جن کی وجہ سے چین میں ان کی آبادی میں اضافہ ہوگیا ہے اور اب یہ نسل معدومی کے خطرے سے باہر نکل آئی ہے۔

ان دونوں پانڈا کے والدین چینی النسل ہی تھے تاہم ان کو بہتر تعلقات کے قیام کے لیے ’پانڈا ڈپلومیسی‘ کے تحت امریکا بھجوایا گیا تھا جہاں ان دونوں کی پیدائش ہوئی۔ تاہم اب آبائی وطن کو واپس لوٹنا ان پانڈا کے لیے کوئی خوشگوار تجربہ نہیں ہے اور یہ بری طرح سے اپنے پرانے گھر کو یاد کر رہے ہیں۔

As sad as it is to see the Meis leave, it is an important step for them and for their species. In another couple years they will be of breeding age and therefore be able to contribute to their species and carry on the Yang-Lun legacy. If they were to stay here they would not have the ability to reproduce as there are no unrelated males here and only space for one breeding pair. After their flight and routine quarantine period, I have no doubt that they will adjust to their new life in China. There is a very dedicated group of people that work at the Chendgu Research Base and I have all the confidence that they will help the girls adjust as they have with our previous three cubs. Our new twins will have big shoes to fill, but I’m sure as they get older, they will bring as much joy and laughter as the Meis have. – Shauna D., Keeper II, Mammals #MeiDays #ZAPandas

A photo posted by Zoo Atlanta (@zooatl) on

سب سے پہلے تو ان پانڈا کو زبان کا مسئلہ پیش آرہا ہے۔ یہ پانڈا صرف انگریزی زبان سمجھتے ہیں اور اب ان کی دیکھ بھال کرنے والوں کو پریشانی کا سامنا ہے کیونکہ یہ ان کی چینی زبان نہیں سمجھ پا رہے۔

panda-4

اسی طرح یہ پانڈا اس غذا کو بھی مسترد کرچکے ہیں جو مقامی طور پر چین میں پانڈا کو کھلائی جاتی ہے۔

panda-5

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امریکا میں یہ پانڈا امریکی خستہ بسکٹ کھانے کے بے حد شوقین تھے اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے افراد کو ان کی ہر خوراک میں خستہ بسکٹ شامل کرنے پڑتے تھے۔

تحقیقی ادارے میں موجود انتظامیہ آہستہ آہستہ ان پانڈوں کی عادات بدلنے پر کام کر رہی ہیں تاکہ انہیں چین کے مقامی طرز زندگی کے مطابق بنایا جائے۔

واضح رہے کہ مختلف علاقوں اور ممالک کے درمیان تبادلے کے بعد جانوروں کو اکثر اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے قبل بھارت میں بھی ایک سفید شیر کو راجھستان سے چنائے منتقل کیا گیا تو اس شیر اور اس کی دیکھ بھال کرنے والوں کے درمیان زبان کی رکاوٹ کھڑی ہوگئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں