The news is by your side.

ٹوئٹر نے بھارتی ملازمین پر دکھوں کا پہاڑ گرا دیا

ایلون مسک کا ٹوئٹر کا مالک بننا بھارت کو راس نہ آیا، پہلے بھارتی چیف ایگزیکٹو کو نکال باہر کیا گیا اور اب بھارت میں 90 فیصد ملازمین کو فارغ کردیا گیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹوئٹر نے بھارت میں اپنے دفاتر سے 90 فیصد سے زائد ملازمین کو فارغ کردیا ہے، بتایا جاتا ہے کہ نئی دہلی، ممبئی اور بنگلور میں ٹوئٹر کے دفاتر میں 200 افراد کام کر رہے تھے جن میں سے اب صرف 12 کے قریب ملازمین باقی رہ گئے ہیں

اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ بھارت میں ٹوئٹر کے دفاتر سے لوگوں کو فارغ کیے جانا ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک کی ملازمین کم کرنے کی مہم کا حصہ ہے۔

دوسری جانب ٹوئٹر کی جانب سے طنز و مزاح پر مبنی ٹوئٹر اکاؤنٹ پر واضح طور پر لفظ ’ پیروڈی‘ نہ لکھنے والے اکاؤنٹس بلاک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ دنیا کے امیرترین شخص ایلون مسک نے گزشتہ دنوں ٹوئٹر کا کنٹرول سنبھالا ہے، انہوں نے 44 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت ٹوئٹر کی ملکیت حاصل کی ہے۔

ایلون مسک نے ٹوئٹر کی ملکیت حاصل کرنے کے بعد سب سے پہلا کام جو کیا وہ ٹوئٹر کے بھارتی نژاد سی ای او پراگ اگروال اور سی ایف او نیڈ سیگل کو نہ صرف برطرف کیا تھا بلکہ انہیں صدر دفتر سے بھی نکال باہر کیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایلون مسک نے ٹوئٹر کی ملکیت میں آنے کے بعد تقریباً 3700 افراد کو فارغ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کی وجہ سے اس سوشل میڈیا کمپنی کی افرادی قوت میں تقریباً نصف حصہ کی کمی ہو جائے گی۔

ٹوئٹر کے نئی سی ای او ایلون مسک نے کمپنی سے ملازمین کو نکالنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کی وجہ سے ٹوئٹر کو روزانہ تقریبا 4 ملین امریکی ڈالر کا نقصان ہورہا تھا۔

ایلون مسک نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ کمپنی کے عملے کو کم کرنا بدقسمتی ہے لیکن اتنے بھاری نقصان کے باعث ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

ٹوئٹر کے سی ای او کا کہنا تھا کہ برطرف ملازمین کو تین ماہ کی تنخواہ دی گئی جو کہ قانونی پچیدگیوں سے 50 فیصد زیادہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں