تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی وزیر خارجہ کی ملاقات

اسلام آباد : وزیراعظم شہبازشریف نے سعودی وزیر...

سعودی وفد آج اسلام آباد میں اہم ملاقاتیں کرے گا

اسلام آباد : سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن...

فیض آباد دھرنا : انکوائری کمیشن نے فیض حمید کو کلین چٹ دے دی

پشاور : فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ...

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں...

سعودی وزیر خارجہ کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا

اسلام آباد: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان...

قابل اعتبار خبروں تک رسائی کے لیے ٹویٹر کا ایک اور اقدام

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر نے معتبر خبروں اور تفصیلات تک صارفین کی رسائی یقینی بنانے کے لیے دو اہم اداروں سے شراکت داری کرلی۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر نے خبر رساں اداروں ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) اور رائٹرز کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد پلیٹ فارم پر قابل اعتبار خبروں اور تفصیلات تک صارفین کی رسائی یقینی بنانا ہے۔

خبر رساں اداروں کے ساتھ نئے معاہدے کے تحت ٹویٹر ٹیم کو خبروں کے تناظر اور ٹرینڈز کو درست رکھنے میں مدد مل سکے گی۔ اسی طرح کمپنی کو اہم ایونٹس کے دوران عوامی اعلانات کے استعمال، گمراہ کن مواد کے لیبلز اور دیگر کے لیے بھی مدد مل سکے گی۔

اس وقت ٹویٹر کی جانب سے ٹاپ ٹرینڈز اور دیگر خبروں میں ایکسپلور ٹیب میں اضافی تفصیلات کا اضافہ کیا جاتا ہے، اس شراکت داری کے بعد مخصوص سرچ رزلٹس کی درجہ بندی کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

اسی طرح ہوم ٹائم لائن کی ایکسپلور ٹیب اہم ایونٹس جیسے ہیلتھ ایمرجنسیز اور دیگر ایونٹس کو نمایاں کرنے پر بھی کام کیا جائے گا۔ ٹویٹر کی جانب سے گمراہ کن مواد کے لیبل میں مستند ذرائع سے تفصیلات کا بھی اضافہ کیا جائے گا۔

تاہم یہ ٹیم ٹویٹر کی ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ٹیم سے الگ کام کرے گی، جو تعین کرتی ہے کہ کس ٹویٹ نے کمپنی کی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کی اور اس حوالے سے ایکشن جیسے ٹویٹ ڈیلیٹ کرنا، بین کرنا یا دیگر کا فیصلہ کرتی ہے۔

ٹوٹر نے تصدیق کی ہے کہ اے پی یا رائٹرز کی جانب سے ان فیصلوں میں کوئی کردار ادا نہیں کیا جائے گا۔ کمپنی نے بتایا کہ اے پی اور رائٹرز کے ساتھ کام کرنے سے پلیٹ فارم میں ٹویٹس میں اضافی تفصیلات کے اضافے کی رفتار میں اضافہ ہوگا۔

اسی طرح وائرل گمراہ کن مواد کو روکنے میں بھی یہ شراکت داری مددگار ثابت ہوگی۔

Comments

- Advertisement -