The news is by your side.

Advertisement

ٹوئٹر صارفین کیلئے بڑی خبر : کمپنی کی نئی سروس متعارف

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے باضابطہ طور پر اپنی پہلی سبسکرائپشن سروس متعارف کرادی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ہم مختلف کیٹیگریز اور قیمتوں کا تجربہ کرتے رہیں گے جس سے ہمیں کافی کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔

اس حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ٹوئٹر بلیو نامی اس سروس کو سب سے پہلے آسٹریلیا اور کینیڈا میں متعارف کرایا گیا ہے۔ اس سروس کو حاصل کرنے والے افراد کو پریمیئم فیچرز بشمول بک مارکس آرگنائز کرنے والے ٹولز، صاف ستھری میسج تھریڈ اور ان ڈو ٹوئٹ فیچر تک رسائی حاصل ہوگی۔

ان ڈو ٹوئٹ فیچر جی میل کے ای میل بھیجنے کے عمل کو ان ڈو کرنے سے ملتا جلتا ہوگا یعنی کچھ سیکنڈ یا منٹ کے اندر ٹوئٹ کو ان ڈو کیا جاسکے گا۔

کمپنی کے مطابق ٹوئٹر بلیو کو فی الحال مخصوص مارکیٹوں میں متعارف کرایا گیا ہے جس سے یہ تعین کرنے میں مدد مل سکے گی کہ اس میں موجود فیچرز کس حد تک صارفین کی ضروریات پوری کرسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کینیڈا اور آسٹریلیا میں یہ سروس بالترتیب 3.49 کینیڈین ڈالرز اور 4.49 آسٹریلین ڈالرز میں دستیاب ہوگی جس میں نئے بک مارک فولڈرز ہوں گے جو ٹوئٹر صارفین کو اپنے محفوظ مواد کو منظم رکھنے میں مدد فراہم کریں گے۔

بک مارک فیچر اب بھی ٹوئٹر میں موجود ہے جس میں صارفین مختلف ٹوئٹس کو بعد میں دیکھنے کے لیے محفوظ کرسکتے ہیں مگر فولڈرز فیچر میں صارفین بک مارکس پوسٹس کے لیے سب فولڈرز بناسکیں گے جو کلر کوڈڈ ہوں گے۔ اسی طرح ایک ریڈر موڈ فیچر بھی اس سروس کا حصہ ہوگا۔

ٹوئٹر کی جانب سے چند ماہ پہلے ایک پریمیئم سروس متعارف کرانے کا عندیہ دیا گیا تھا اور جنوری 2021 میں کمپنی نے ایک نیوز لیٹر کمپنی ریویو کو بھی خرید لیا تھا۔یہ سروس صارفین کو سبسکرائپشن ای میلز لکھنے اور شائع کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

مئی کے شروع میں ٹوئٹر نے ایک اور کمپنی اسکرول کو خریدا تھا جو نیوز سائٹس پر اشتہارات کو ہٹاتی ہے۔ ٹوئٹر کی جانب سے آمدنی کے حصول کے متبادل ذرائع پر کام کیا جارہا ہے کیونکہ اس کے آمدنی کے بنیادی ذریعے اشتہارات کو مشکلات کا سامنا ہے۔

مئی کے شروع میں ایپل نے آئی فونز اور آئی پیڈز کے لیے ایک اپ ڈیٹ متعارف کراتے ہوئے ایک فیچر ایپ ٹریکنگ ٹرانسپیرنسی کو ان ایبل کیا تھا۔ اس فیچر کے تحت ایپس کو صارفین کی آن لائن سرگرمیوں کو اشتہارات کے لیے استعمال کرنے کی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں