The news is by your side.

Advertisement

سندھ میں ڈاکٹروں کی ہڑتال، کراچی میں دو بچوں کی طبعی اموات

تحریک انصاف کی ڈاکٹروں سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل

کراچی: شہر قائد میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے سبب شہر بھر کے لاکھوں مریض رل گئے، دو بچوں کی طبعی اموات پر لواحقین غم و غصہ، این آئی سی ایچ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بچوں کی اموات ہڑتال کے سبب نہیں ہوئیں، تحریک انصاف نے ہڑتال کا ذمہ دار سندھ حکومت کو قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے این آئی سی ایچ میں آج دو بچے دم توڑ گئے ، لواحقین کا کہنا ہے کہ بچوں کی موت ڈاکٹرز کی عدم دستیابی کے سبب ہوئی، اس موقع پر غم و غصے سے بھرے افراد نے اسپتال میں توڑ پھوڑ بھی کی۔

واقعے کے بعد سربراہ این آئی سی ایچ ڈاکٹر جمال رضا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی ہلاکت ہڑتال کے سبب نہیں ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہڑتال صرف او پی ڈی میں جاری ہے جبکہ بچے وارڈ میں داخل تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وارڈ میں داخل مریضوں کو مسلسل طبی امداد فراہم کی جارہی ہے، ایک بچہ ذہنی معذوری کا شکار تھا، دوسرے کو پیدائشی نمونیا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہاں روزانہ ہزاروں بچے علاج کی غرض سے آتے ہیں۔ ان میں سے بعض کی حالت اس قدر سنگین ہوتی ہے کہ وہ جانبر نہیں ہوپاتے ۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان نے بچوں کی اموات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی ہٹ دھرمی کےباعث مریض پریشان ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی اموات پر سندھ حکومت کی خاموشی مجرمانہ عمل ہے،وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹرزکےمطالبات کافوری حل نکالیں۔

انہوں نے ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث ہونےوالی اموات کا ذمہ دار وزیراعلیٰ سندھ کو قرار دے دیا، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے ڈاکٹر سے بھی اپیل کی کہ انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت ہڑتال پر نظرثانی کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں