The news is by your side.

Advertisement

اسرائیل میں انتخابات سے دو روز قبل نئی آبادکاریاں منظور

یروشلم:اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے انتخابات سے 2 روز قبل مقبوضہ مغربی کنارے پر نئی آبادکاریاں منظور کرلیں۔

تفصیلات کے مطابق یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب نیتن یاہو اور ان کے حریف بینی گانٹز اتوار کی شام کو آخری ریلیوں کے ذریعے اپنے حامیوں کو اکٹھا کر رہے تھے۔

اسرائیل کے طویل ترین عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے بینجمن نیتن یاہو نے اسرائیل پر اپنی حاکمیت برقرار رکھنے کے لیے حالیہ دنوں میں کئی اعلانات کیے ہیں۔

وزیر اعظم کے دفتر کا کہنا تھا کہ وادی اردن میں ہونے والے کابینہ اجلاس نے اردن کے میووت ییریچو میں نو آبادکاریاں منظور کیں،بین الاقوامی قوانین کے تحت تمام آباد کاریاں غیر قانونی ہیں تاہم اسرائیل جنہیں وہ منظور کرچکا ہے اور جنہیں اس نے اب تک منظور نہیں کی ہیں، میں فرق کرتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ حالیہ منظوری نیتن یاہو کی اردن کے علاقے کو اسرائیل میں شامل کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آئی جو مغربی کنارے کا ایک تہائی حصہ ہے۔

نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق پارلیمنٹ نے وزیر اعظم میووت یریچو کو تعمیر کرنے کی تحریک منظور کرلی ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینا نے کابینہ کے اجلاس کو غیر قانونی قرار دیا اور بین الاقوامی برادری سے اسرائیل کو تمام سیاسی مراحل کی بنیادیں تباہ کرنے سے روکنے کا کہا۔

اسرائیلی نو آبادکاری کی مخالف این جی او،پیس ناؤ کا کہنا تھا کہ ‘حکومت فلسطینیوں سے تنازع کے خاتمے کے 2 ریاستی معاہدے کو توڑ رہی ہے۔

نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تعاون سے مغربی کنارے کی آبادکاریوں کو علیحدہ کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔فلسطینیوں کے ہمراہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے بھی وادی اردن کے حوالے سے گزشتہ ہفتے کے نیتن یاہو کے اعلان کی مذمت کی تھی۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ وادی اردن کو ضم کرنے میں فلسطین کے شہر شامل نہیں ہوں گے تاہم وہ اسرائیلی حدود کے اندر آجائیں گے۔

انتخابات میں نیتن یاہو اور سابق فوجی سربراہ بینی گانٹز اور ان کے بلو اینڈ وائٹ سینٹرسٹ اتحاد کے درمیان کڑا مقابلہ ہے اور دائیں بازو کے قوم پرستوں کے ووٹ اس میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔4 لاکھ اسرائیلی مغربی کنارے میں 26 لاکھ فلسطینیوں کے ساتھ آباد ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان نو آباد کاریوں کو امن میں رکاوٹ سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہ ایسی زمین پر بنی ہیں جسے فلسطین مستقبل میں اپنی ریاست سمجھتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں