The news is by your side.

Advertisement

مولانا فضل الرحمان کا دھرنا، جے یو آئی ف کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع

اسلام آباد : وفاقی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے اور آزادی مارچ کے بینرز لگانے والے دو افراد کو گرفتار کرلیا اور گرفتار افراد کی مدد سے مزید چھاپے شروع کردیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی پولیس نے جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے پیش نظر گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور کارروائی کے دوران دھرنے اور آزادی مارچ کے بینر لگانے والے دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق چند افراد دھرنے کے بینرز لگا رہے تھے اور لوگوں کو آزادی مارچ میں شرکت پر اکسا رہے تھے، پولیس پارٹی کو دیکھ کر بھاگ نکلے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس نے مولانا شفیق الرحمن اور مولانا محمد ارشاد کو گرفتا کر کے بینرز بر آمد کر لیے، ملزمان نے دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود انتظامیہ  کی رٹ کو چیلنج کیا ہے ، تھانہ شمس کالونی نے مقدمہ درج کر کے گرفتار افراد کی مدد سے مزہد چھاپے شروع کر دئیے۔

مزید پڑھیں : حکومت کا جے یو آئی ف کی فورس انصار الاسلام کیخلاف کارروائی کا بڑا فیصلہ

یاد رہے حکومت نے جے یو آئی کی ملیشیا فورس انصار الاسلام کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے وزارت داخلہ نے کارروائی کے لیے وفاقی کابینہ سے منظوری لے لی تھی۔

وزارت داخلہ کی جانب سے سمری میں کہا گیا تھا کہ مسلح فورس 80ہزار سے زائد افراد پر مشتمل ہے، آزادی مارچ کے موقع پر امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ہے، مسلح فورس کےطور پر انصارالاسلام کا قیام آرٹیکل 256 کی خلاف ورزی ہے ۔

واضح رہے جے یو آئی (ف) نے 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا ہے، مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مظاہروں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ شروع ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں