شارجہ: سائیکل بچانے جانے والے دو کم سن پاکستانی بچے جاں بحق two pakistani boys
The news is by your side.

Advertisement

شارجہ: جلتے گھر میں سائیکل بچانے کیلئے جانے والے دو کم سن پاکستانی بچے جاں بحق

شارجہ: شارجہ میں رہائش پذیر پاکستانی گھرانے کے دو کم سن بچے آگ لگنے کے سبب جل کر ہلاک ہوگئے، والد نے بتایا کہ بچے گھر سے باہر آچکے تھے لیکن اپنی سائیکل لینے واپس گھر میں چلے گئے پھر ان کی لاشیں ہی ملیں، پاکستانی سفارت خانے کے متاثرہ فیملی کے لیے مالی مدد کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق شارجہ کے علاقے الغفیہ میں ایک پاکستانی گھرانے کے دو بچے 7 سالہ محمد عدنان اور 9 سالہ محمد سلمان اتوار کو گھر میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔

اطلاعات کے مطابق ہفتے کو دوپہر تین بجے سول ڈیفنس کے آپریشن روم کو الغفیہ کے ایک گھر میں آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی۔

سول ڈیفنس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں فوری طور پر جائے حادثہ پہنچیں اور آگ بجھانے کا عمل شروع کردیا تاہم آگ لگنے کے ساتھ ہی تیزی کے ساتھ پوری گھر میں پھیل گئی تھی اور اس نے پورے گھر کو جلا کر خاک کردیا۔

واقعے میں والدہ اور دیگر اہل خانہ محفوظ رہے، فائر آفیسرز اور فارنزک ماہرین نے گھر کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردیں اور اس بات کا تعین کیا کہ بچے کہاں موجود تھے۔

بچوں کو سپرد خاک کردیا گیا

بچوں کی جلی ہوئی لاشیں ملنے کے بعد انہیں شارجہ فرانزک لیبارٹری منتقل کردیا گیا اور تمام قانونی کارروائی کے بعد لاشیں والدین کے حوالے کردیں جنہیں اتوار کو سپرد خاک کردیا گیا۔

آگ لگنے کی تحقیقات جاری ہیں، پولیس

شارجہ پولیس کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

واقعے کے وقت نوکری پر گیا ہوا تھا، والد

بچوں کے والد 33 سالہ محمد عرفان امارات ڈرائیونگ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرتے ہیں، انہوں نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ واقعے کے وقت وہ نوکری پر گیا ہوا تھا، میری بیوی دونوں بچوں کو پڑھا رہی تھی، ہاتھ دھونے کے لیے کمرے سے باہر نکلی کہ اچانک گھر کے پچھلے حصے میں ایک دھماکے کے بعد گھر آگ کے شعلوں میں گھر گیا۔

سائیکل بچانے کے لیے بچے دوبارہ گھر میں چلے گئے، والد

آگ تیزی سے پھیلنے لگی تو بیوی اور بچے رشتہ داروں سمیت گھر سے باہر نکل آئے لیکن دونوں بچے گھر کے پچھواڑے میں رکھی اپنی سائیکلیں آگ سے بچانے کی خاطر دوبارہ بھاگ کر گھر کے اندر چلے گئے۔

آگ کی اطلاع ملتے ہی گھر پہنچا تو باہر ہجوم لگا ہوا تھا،والد

عرفان نے بتایا کہ آگ کی اطلاع ملتے ہی وہ فوری گھر پہنچا تو گھر کے باہر لوگوں کا ہجوم اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور جلا ہوا گھر دیکھا، گھر کے باہر بیوی، بارہ سالہ بیٹی اور چھ ماہ کی بیٹی موجود تھے تاہم دونوں بیٹے نہیں تھے۔

بیوی صدمے میں کھڑی تھی، دونوں بچوں کی جلی ہوئی لاشیں دیکھیں، والد

میری بیوی شدید صدمے کی حالت میں تھی اور اس نے مجھ سے کہا کہ وہ بچوں کو دیکھ نہیں سکتا، پتا چلا کہ فائر بریگیڈ کے اہل کاروں کوگھر کے پچھواڑے سے دو بچوں کی جلی ہوئی لاشیں ملیں جو کہ سائیکل لینے گئے تھے۔

متاثرہ گھرانے کو عارضی طور پر فلیٹ فراہم کردیا، ریڈ کریسنٹ

ریڈ کریسنٹ کے حکام نے بتایا کہ واقعے کے بعد متاثرہ خاندان کی مدد شروع کردی ہے، متاثرہ فیملی کو عارضی طور پر رہائش کے لیے ایک فلیٹ فراہم کردیا ہے۔

پاکستانی سفارت خانے کا مالی مدد کا اعلان

شارجہ میں واقع پاکستانی قونصل جنرل بریگیڈئیر (ر) سید جاوید حسن نے آتشزدگی میں جاں بحق دو پاکستانی کم سن بچوں کے لیے مالی امداد کا اعلان کردیا۔

خیال رہے کہ شارجہ اور دبئی کے حکام نے حال ہی میں آتشزدگی کے تدارک سے متعلق آگاہی مہم شروع کررکھی جس کے تحت عوام میں شعور بیدار کیا جارہا ہے کہ وہ گھروں میں آگ بجھانے کے آلات اور فائر الارم نصب کریں تاکہ زندگیاں خطرات سے محفوظ ہوسکیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں