The news is by your side.

Advertisement

کوئٹہ، مختلف واقعات میں 2 خواتین اور 2 پولیس اہلکاروں کو قتل کردیا گیا

کوئٹہ : نامعلوم مسلح افراد نے ہزارگنجی کے علاقے میں دو خواتین پولیو ورکرز کو گولیوں سے بھون ڈالا، اس سے قبل سریاب روڈ فلائی اوور پر دو پولیس اہلکار کو قتل کردیا گیا، فائرنگ سے ایک اہلکار زخمی ہوگیا جسے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے.

تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت میں دہشت گردی کے د علیحدہ علیحدہ واقعات میں پولیو کے قطرے پلانے والی دو خواتین اور سریاب روڈ پر ڈیوٹی پر جانے والے دو پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا.

فائرنگ کا پہلا واقعہ سریاب روڈ پر پیش آیا جہاں تین پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار موقع پر ہی شہید ہوگئے جب کہ ایک پولیس اہلکار کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے.

دہشت گردی کا دوسرا واقعہ ہزار گنجی کے علاقے میں پیش آیا جہاں بچوں کو گھر گھر پولیو کے قطرے پلانے کے لیے جانے والی دو خواتین کو نامعلوم مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل کردیا، دونوں خواتین کی لاشیں اسپتال منتقل کردی گئی ہیں.

ذرائع کے مطابق پولیو کے قطرے پلانے والی خواتین کے ساتھ واقعہ کے وقت کوئی پولیس اہلکار موجود نہیں تھا جس کے باعث ان خواتین کو بآسانی ہدف بنالیا گیا حالانکہ صوبائی حکومت کی جانب سے پولیو ورکز کے ساتھ پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے واضع احکامات موجود ہیں.

دہشت گردی کے پہ در پہ دو واقعات کے بعد شہر کی سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے جب کہ پولیس کی تفتیشی ٹیم نے دونوں واقعات کے جائے وقوعہ کا دورہ کرکے ابتدائی شواہد جمع کرلیے ہیں اور قتل کی وارداتوں کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے جب کہ مشتبہ افراد کی سخت چیکنگ عمل جاری ہے.


اسی سے متعلق : کوئٹہ میں فائرنگ‘ ٹریفک پولیس اہلکارجاں بحق


خیال رہے کہ دوروز قبل کوئٹہ میں رئیسانی روڈ پرنامعلوم موٹرسائیکل سوار مسلح افراد کی فائرنگ سے ٹریفک پولیس اہلکار جاں بحق ہوگیا تھا، اسی طرح رواں ماہ 6 جنوری کو سریاب روڈ پر ہی پولیس اہلکار معمول کے گشت پرتھے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک اہلکار کو شہید جب کہ دوسرے کو زخمی کردیا تھا۔

اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں