کراچی : دس لاکھ بیرل سے زائد خام تیل لے کر دو جہاز پاکستان پہنچ گئے، تاہم چارٹر جہاز پالکی سعودی بندر گاہ راستنورہ پر تاحال موجود ہیں۔
تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ سے 10 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل لے کر دو بحری جہاز پاکستان نیوی کے خصوصی حفاظتی حصار میں باحفاظت کراچی پہنچ گئے ہیں۔
پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے حکام نے بتایا کہ ایم ٹی کراچی اور ایم ٹی شالا مار خام تیل لے کر کراچی پہنچے۔
فجیرہ میں بحری جہازوں پر حالیہ حملوں کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر پاک بحریہ نے ان جہازوں کو اپنی نگرانی میں لیا، جہازوں کی منتقلی کا عمل نیوی کے سیکیورٹی پیرامیٹر کے اندر مکمل کیا گیا تاکہ تیل کی بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور نے بحری جہازوں کی محفوظ منتقلی پر پاک بحریہ کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ وزارتِ خارجہ نے خلیج فارس میں پھنسے ہوئے مزید دو جہازوں کو نکالنے کے لیے ایران سے بھی مدد طلب کی ہے۔
پورٹ قاسم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گیس آئل بردار جہاز ‘ایم ٹی تورم ڈیمنی’ فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہو چکا ہے، جبکہ 50 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول لے کر ‘ایم ٹی نیو ایٹروپوس’ 9 مارچ کو پہنچا تھا۔ مزید ٹینکرز کی آمد بھی متوقع ہے تاکہ ملک بھر میں پیٹرول کی سپلائی برقرار رہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری دی تھی، جس کے بعد تیل کی ان کھیپوں کی بروقت آمد کو ذخیرہ اندوزی اور قلت کے خاتمے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
انجم وہاب اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں اور تجارت، صنعت و حرفت اور دیگر کاروباری خبریں دیتے ہیں


