جاپان میں طوفان کے باعث 9 افراد 300 سے زائد زخمی typhoon-jebi
The news is by your side.

Advertisement

جاپان میں طوفان کے باعث 10 افراد ہلاک، 300 سے زائد زخمی

ٹوکیو : جاپان میں ’ٹائیفون جیبی‘ نامی سمندری طوفان اور تیز ہواؤں کے باعث مختلف حادثات میں 10 افراد ہلاک جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق جاپان میں آنے والے سمندری  طوفان نے گذشتہ 25 برسوں میں آنے والے طوفانوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے، ’ٹائیفون جیبی‘ نامی طوفان نے ملک کے مختلف حصّوں میں تباہی مچادہی ہے جبکہ طوفان کے باعث 10 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہیں۔

جاپانی خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ مختلف حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

کنسائی ایئرپورٹ بارش کا پانی بھرا ہوا ہے

عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ طوفان کے باعث ہوا کی شدت 216 کلو میٹر ہوگئی جس کے نتیجے میں اوساکا کے ریلوے اسٹیشن سمیت گھروں کی چھتیں اُڑ گئی جبکہ سڑکوں پر موجود گاڑیاں بھی الٹ گئیں۔

تیز ہواؤں اور طوفان کے نتیجے میں گھر اور عمارتیں بھی بڑے پیمانے پر متاثر ہوئی ہیں

غیر ملکی میڈیا کہنا ہے کہ ’ٹائیفون جیبی‘ نامی طوفان کے باعث جاپان کے شہر ’شیکوکو‘ میں لینڈ سلائنڈنگ کے متعدد واقعات پیش آئے جبکہ ہزاروں مسافروں سے بھرے ہوئے کنسائی ایئرپورٹ بارش کا پانی کا بھرنے کے باعث اسے خالی کروانا پڑا۔

طوفان کے باعث اوساکا میں ہونے والی تباہی

جاپانی میڈیا کا کہنا ہے کہ طوفان کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں 10 شہریوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا، دوسری جانب مکانات کی چھتیں گرنے اور گاڑیاں الٹنے کے باعث سیکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

حکومت نے ٹائیفون جیبی سے محفوظ رہنے کے لیے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایات جاری کی ہے، جبکہ پروازیں اور ٹرینوں کی آمد رفت بھی بند کردی گئی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹویٹر پر پوسٹ ہونے والے ویڈیو میں دکھا جاسکتا ہے کہ اوساکا میں لگا ہوا 328 فٹ بلند ’فیری ویل‘ جھولا تیز ہواؤں کے باعث تیزی سے گھوم رہا ہے۔


مزید پڑھیں : جاپان میں طوفانی بارشوں اورسیلاب نےتباہی مچادی‘ ہلاکتوں کی تعداد 199 ہوگئی


یاد رہے کہ رواں برس جولائی میں جاپان میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں مرنے والے افراد کی تعداد 199 ہوگئی جبکہ لاکھوں افراد بے گھرہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ جولائی میں ہونے والی طوفانی بارشوں کے بعد جاپانی حکام نے کہا تھا کہ 30 سالوں میں سیلاب اور بارش کی وجہ سے ہلاک ہونے والے افراد کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔


مزید پڑھیں : مشرق سے مغرب تک تباہ کن سیلاب اور طوفان، یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟


گذشتہ برس  موسمیاتی تغیرات یعنی کلائمٹ چینج کے حوالے سے ایک تباہ کن سال ثابت ہوا۔ فرسٹ ورلڈ امریکہ سے لے کر تیسری دنیا کے جنوبی ایشیا تک طوفانوں اور سیلابوں نے وہ تباہی مچاہی کہ دنیا لرز اٹھی تھی۔

اس بارے میں اے آر وائی نیوز نے آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے زمینی و آبی سائنس (ارتھ اینڈ میرین سائنسز) شعبے کے پروفیسر ڈاکٹر بریڈلے اوپ ڈک سے رابطہ کیا تو انہوں نے ساری صورتحال کو ایک جملے میں سمود یا۔

ان کا کہنا تھا، ’سمندروں میں آنے والا گرم پانی (جو مختلف دریاؤں سے آتا ہے) سمندر کے پانی کو گرم کرتا ہے، جس سے پانی مزید تیزی سے بخارات بن کر بادلوں اور پھر بارشوں کو تخلیق کرتا ہے‘۔

ڈاکٹر بریڈلے اوپ ڈک کے مطابق سمندروں کا گرم درجہ حرارت پہلے سے موجود طوفانوں کو تقویت دیتا ہے، نئے طوفان پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے، اور یہ طوفان بارشوں کا سبب بنتے ہیں جو بڑے پیمانے پر سیلاب اور جانی و معاشی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں