گوانگ ڈونگ (25 ستمبر 2025): رواں سال کا دنیا کا سب سے طاقت ور سمندری طوفان راگاسا چین کے صوبے گوانگ ڈونگ کے شہر یانگ جیانگ سے ٹکرا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ہانگ کانگ اور تائیوان میں تباہی مچانے والا طاقت ور سمندری طوفان راگاسا آج بدھ کو چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ میں شہر یانگ جیانگ سے ٹکرا گیا، جہاں تیز ہواؤں اور موسلا دھار بارشوں سے درجنوں درخت گر گئے، اور کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
طوفان راگاسا نے تائیوان میں زبردست تباہی مچائی ہے، جہاں مختلف حادثات میں 17 افراد ہلاک، اور 50 زخمی اور ہوالین کاؤنٹی میں 17 افراد لاپتا ہو گئے ہیں، طوفان اور سیلاب کے باعث پُل اور سڑکیں بہہ گئیں، اور 3000 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔
اسی طرح ہانگ کانگ کے ساحلی علاقے میں موجود ایک ہوٹل طوفانی لہروں کی زد میں آیا، جس سے شیشے کے دروازے ٹوٹ کر بکھر گئے، ہانگ کانگ میں سڑکیں اور رہائشی مکانات بھی زیر آب آئے ہیں، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
بنکاک میں زمین دھنسنے کی ہولناک ویڈیو، گڑھے نے گاڑیاں اور بجلی کے کھمبے بھی نگل لیے
ہانگ کانگ کی سٹی یونیورسٹی کے اسکول آف انرجی اینڈ انوائرمنٹ کے ڈین بینجمن ہارٹن نے کہا کہ موسم گرما میں ریکارڈ توڑ بارشوں کے بعد، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جنوبی چین میں مزید طاقتور ٹائفون آنے کا امکان ہے۔
اکثر طوفانوں کی زد میں رہنے والے تائیوان میں حکام لوگوں کو ممکنہ خطرے والے علاقوں سے تیزی سے باہر نکالنے کے عادی ہیں، تاہم سیاحتی قصبے گوانگ فو کے رہائشیوں کا کہنا تھا کہ انھیں ناکافی وارننگ دی گئی اور طوفانی بارشوں کے باعث جھیل بھی بہہ گئی۔
چین کے سمندری حکام نے اس سال پہلی بار بلند ترین سطح کی سرخ لہر (ریڈ ویو) کی وارننگ جاری کی ہے، کیوں کہ طوفان راگاسا گنجان آباد ’پرل ریور ڈیلٹا‘ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جس سے گوانگ ڈونگ صوبے کے کچھ حصوں میں 2.8 میٹر (9 فٹ) تک سمندری طغیانی (اسٹارم سرج) کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ راگاسا گزشتہ ہفتے مغربی بحرالکاہل میں بنا ہے، گرم سمندری پانی اور سازگار فضائی حالات کی وجہ سے یہ ٹراپیکل سائیکلون تیزی سے شدت اختیار کر گیا اور پیر کے روز کیٹیگری 5 کا سپر ٹائفون بن گیا، جس کی ہوائیں 260 کلومیٹر فی گھنٹہ (162 میل فی گھنٹہ) سے تجاوز کر گئیں۔ اگرچہ اب اس کی شدت میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن یہ اب بھی اتنا طاقت ور ہے کہ درختوں اور بجلی کی لائنوں کو گرا سکتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


