site
stats
ماحولیات

آلودگی کی وجہ سے بھارت میں ورلڈ کپ کا انعقاد خطرے میں

نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت میں فضائی آلودگی کی خطرناک سطح اور اسموگ کے باعث نئی دہلی میں ہونے والے انڈر 17 ورلڈ کپ کا انعقاد خطرے میں پڑگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فیفا ورلڈ کپ کا مقام تبدیل کر سکتی ہے۔

بھارت میں فیفا کے حکام کے مطابق نئی دہلی میں آلودگی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوچکی ہے۔ اس سطح میں گزشتہ برس دیوالی کے تہوار کے بعد مزید اضافہ ہوگیا جب ملک بھر میں بڑے پیمانے پر آتش بازی کی گئی۔

بھارتی فیفا حکام کے مطابق میچ کا حتمی شیڈول فی الحال طے نہیں کیا گیا، تاہم نئی دہلی کی فضائی آلودگی فیفا کے زیر غور ہے۔

مزید پڑھیں: فضائی آلودگی دماغی بیماریاں پیدا کرنے کا باعث

یاد رہے کہ سنہ 2013 میں فیفا نے اعلان کیا تھا کہ اگلے فٹبال انڈر 17 ورلڈ کپ کا میزبان ملک ممکنہ طور پر بھارت ہوسکتا ہے۔ اگر فیفا اپنے وعدے پر قائم رہا تو ٹورنامنٹ نئی دہلی سمیت 6 شہروں میں منعقد کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق گزشتہ برس آلودگی کی سطح میں دیوالی کے بعد خطرناک اضافے کو دیکھتے ہوئے یہ صورتحال اور بھی تشویش ناک ہوجاتی ہے کیونکہ ورلڈ کپ رواں برس اکتوبر میں ہوگا اور اسی ماہ دیوالی کا تہوار بھی منایا جائے گا۔

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق بھارت میں ہر سال فضائی آلودگی کے باعث 11 لاکھ افراد موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ یہ دنیا بھر میں آلودگی کے باعث اموات کی دوسری سب سے بڑی شرح ہے۔

چین 155 لاکھ افراد کے ساتھ سرفہرست ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس بھارت میں فضائی آلودگی کی سطح اس وقت خطرناک سطح کو پہنچ گئی تھی جب بھارتی پنجاب میں دیہاتیوں نے بڑی مقدار میں فصلوں کو جلایا تھا۔ جلائی گئی فصلوں کے دھوئیں سے نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان کا شہر لاہور بھی زہریلی اسموگ کی لپیٹ میں آگیا تھا۔

انہی دنوں بھارت کو تاریخ کی بدترین فضائی آلودگی کے باعث دارالحکومت کے 1800 پرائمری اسکولوں میں بھی 3 دن کی تعطیلات کا اعلان کرنا پڑا تھا۔

مزید پڑھیں: زہریلی اسموگ سے کیسے بچا جائے؟

اس سے قبل گزشتہ برس برازیل میں منعقد ہونے والے ریو اولمپکس 2016 میں بھی ماہرین کھلاڑیوں کی صحت کے بارے میں تشویش کا شکار تھے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ ریو ڈی جنیرو کا پانی اس قدر آلودہ ہے کہ صرف تین گھونٹ سے زائد پانی بھی جسم میں جانے کی صورت میں کھلاڑی مختلف بیماریوں کا شکار بن سکتے ہیں۔

ان کے مطابق ریو کے پانی میں کھلاڑیوں کے لیے نقصان دہ وائرسوں کی تعداد اس مقدار سے 1.7 ملین دگنی ہے جو امریکا اور یورپ میں خطرناک تصور کی جاتی ہے۔ یہاں پائے جانے والے بیکٹریا کو ’سپر بیکٹریا‘ کے درجہ میں رکھا جاتا ہے۔

یہی صورتحال فضائی آلودگی کی تھی۔

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ فضائی اور آبی آلودگی کے باعث ریو میں غیر ملکی کھلاڑیوں کے گیسٹرو میں مبتلا ہونے کا سخت خطرہ ہے۔ انہوں نے یہ خیال بھی ظاہر کیا تھا کہ ریو ڈی جنیرو کسی صورت اس قسم کے کھیلوں کے مقابلوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top