The news is by your side.

Advertisement

چین، امریکا: کشیدگی کا سورج، پابندیوں کی دھوپ

اگر آپ عالمی سیاست، بالخصوص امریکا اور چین کے معاملات، تعلقات میں دل چسپی لیتے ہیں تو چند ہفتوں‌ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تناؤ اور کشیدگی سے بھی واقف ہوں گے۔

خبر گرم ہے کہ چین گیارہ امریکیوں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کرنے والا ہے جن میں سینیٹروں کے علاوہ امریکی ایوانِ نمائندگان کے اراکین بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل امریکا نے ہانگ کانگ سے متعلق چینی اقدام کے بعد چین کے حکام پر پابندیاں لگائی تھیں۔ یہی نہیں بلکہ ان ممالک میں الزامات کا سلسلہ بھی زور شور سے جاری ہے۔

تجارتی اور معاشی میدان میں سخت حریف، تنازعات کے ساتھ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ کے دوران امریکا اور چین میں کشیدگی بڑھتی جارہی ہے اور بظاہر حالات سخت اور نہایت خراب ہیں۔

اگر آپ بین الاقوامی سیاست اور عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیو‌ں میں‌ دل چسپی رکھتے ہیں تو یہ چند حقائق آپ کی توجہ چاہتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ عالمی معیشت کا 40 فی صد انحصار امریکا اور چین پر ہے۔

امریکا کے بعد چین دوسری بڑی معیشت ہے اور دونوں ممالک جوہری طاقت بھی ہیں۔

رواں برس امریکا چین کے مابین تجارتی کھینچا تانی میں دونوں‌ ممالک نے ایک دوسرے کی مصنوعات پر اضافی ٹیکسز اور ڈیوٹیاں عائد کی تھیں اور یہ ممالک اربوں ڈالر کا خسارہ برداشت کررہے ہیں۔

چین سے امریکا کی ناراضی کی ایک بڑی وجہ وہ موبائل کمپنی ہے جو فائیو جی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں دنیا بھر کی کمپنیوں سے آگے نکل چکی ہے۔ اس حوالے سے چین پر جاسوسی کا الزام لگایا جاتا ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کا جو مؤقف ہے اسے چین مسترد کرچکا ہے اور بے بنیاد قرار دیتا ہے۔

دونوں ملکوں میں جہاں ہانگ کانگ میں‌ چین کے بعض اقدامات یا فیصلے کشیدگی کا سبب بنے، وہیں‌ کرونا جیسی وبا پر بھی الزامات کا تبادلہ ہوا۔

کووڈ 19 کے معاملے پر ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے مخالفت اور کشیدگی کے دوران ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

اسی طرح امریکا کی جانب سے ویزا فراڈ، جاسوسی اور اہم معلومات تک رسائی کے لیے کوششیں کرنے کا بھی الزام لگایا جاچکا ہے۔

عالمی امور کے ماہرین اور غیر جانب دار تجزیہ کاروں‌ کے مطابق امریکا اور چین عظیم طاقت بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں اور موجودہ حالات میں اس کے لیے تجارتی میدان اور جدید ٹیکنالوجی پر مکمل اختیار ان کی اوّلین خواہش ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں