The news is by your side.

Advertisement

اسرائیل پر حملہ امریکا پر حملہ تصور کیا جائے گا: امریکی سینیٹر

واشنگٹن: امریکی سینیٹر لینڈزی گراہم کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر حملہ امریکا پر حملہ تصور کیا جائے گا، ٹرمپ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کوئی وفاعی معاہدہ طے کرے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی سینیٹر لینڈزی گراہم نے امریکی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ وسیع البنیاد دفاعی معاہدہ طے کرے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یہودیوں کی عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گراہم کا کہنا تھا کہ امریکا اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرکے دنیا کو یہ بتائے کہ تل ابیب پر حملہ امریکا پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کا وادی گولان کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنے کا اعلان قابل تحسین ہے۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہودی کانفرنس سے خطاب میں کہا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان جتنے خوش گوار تعلقات اب ہیں ماضی میں کبھی نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ میں جب تک امریکا کا صدر ہوں اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حفاظت کروں گا، ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل میں ہونے والے انتخابات میں جو بھی کامیاب ہوا وہ امریکا کے لیے بہتر ہوگا۔

خیال رہے کہ اسرائیلی فوج 1967سے شامی علاقے گولان کی پہاڑیوں پر قابض ہے۔

تاریخ کے مطالعے کے بعد گولان ہائیٹس کا فیصلہ کیا، امریکی صدر

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ 52 سال بعد امریکا شام کی گولان ہائیٹس پراسرائیل کی مکمل بالادستی تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے۔بعد ازاں انہوں نے باقاعدہ طور پر متنازع فیصلے کو تحریری شکل بھی دے دی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں