The news is by your side.

Advertisement

حوثی جنگجو امن معاہدے کی پاسداری نہیں‌ کررہے، متحدہ عرب امارات کا الزام

ابوظبی : اماراتی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ حوثی جنگجو اسٹاک ہوم معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کررہے ہیں، حوثیوں نے دو ہفتے قبل بھی الحدیدہ میں سرکاری افواج کی تعیناتی میں بھی رکاوٹیں ڈالیں۔

تفصیلات کے مطابق یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کےلیے سعودی عرب کی قیادت میں جنگ لڑنے والے اہم سعودی اتحادی متحدہ عرب امارات نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ یمن میں سویڈن معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنوائے۔

اماراتی حکام نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کو خط ارسال کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ یمن میں سرکاری افواج سے متعلق طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کروائے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سرکاری افواج اور حوثیوں کے درمیان وعدوں پر عمل درآمد نہ ہوا تو دوبارہ جنگی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے اور ساحلی شہر الحدیدہ سے فوج اور حوثی جنگجوؤں کا انخلا ناکام ہوجائے گا۔

خیال رہے کہ حوثی ملیشیاء اور حکومت کے درمیان معاہدے کے تحت رواں سال 7 جنوری تک حدیدہ کو غیر مسلح کرنا تھا اور فوجیں ہٹا لینی تھیں لیکن اس پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے۔

مزید پڑھیں : یمن میں جنگ بندی امن کی جانب پہلا قدم ہے: مندوب اقوام متحدہ

واضح رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں یورپی ملک سویڈن میں اقوام متحدہ کے تحت ہونے والے امن مذاکرات میں دونوں فریقن کے درمیان حدیدہ شہر میں جنگ بندی سمیت کئی نکات پر اتفاق ہوا تھا جس کے بعد یمن میں گذشتہ کئی برسوں سے جاری جنگ کے ختم ہونے کی امید پیدا ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان سنہ 2016 کے بعد سے یہ پہلے امن مذاکرات ہیں جس کے بعد تین نکات پر اتفاق رائے کیا گیا ہے اگر کسی بھی فریق کی جانب سے کوتاہی یا لاپرواہی کا مظاہرہ کیا گیا تو امن مذاکرات تعطلی کا شکار ہوسکتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں