The news is by your side.

Advertisement

یمن میں فوجی کارروائیاں ایک اور حزب اللہ کو روکنے کے لیے ہیں، اماراتی سفیر

ابوظہبی : متحدہ عرب امارات کے سفیر سلیمان المزروعی نے جاری بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب اور اتحادیوں کی یمن میں کارروائیاں ایک اور حزب اللہ کو سر اٹھانے سے روکنے کے لیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں موجود متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے میں تعینات امارتی سفیر کا جاری بیان میں کہنا ہے کہ سعودی اتحادی افواج کی یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں ایک اور حزب اللہ کو تیار ہونے سے روکنے کے لیے ہیں۔

برطانیہ میں تعینات متحدہ عرب امارات کے سفیر سلیمان المزروعی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی یمن میں مداخلت کا باعث ایران کی جانب سے ایک اور حزب اللہ کو پیدا کرنا ہے جسے یمن میں تیار کیا جارہا ہے۔

عربی خبر رساں ادارے العربیہ  ڈاٹ نیٹ کے مطابق اماراتی سفیر نے جاری بیان میں کہا ہے کہ یمن میں برسرپیکار ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی یمنی حزب اللہ ہیں جو ایران کے ہمراہ عرب ریاستوں پر قبضے کی سازش کررہے تھے۔

اماراتی سفیر نے بیان میں کہا کہ ایران اور حوثیوں کی سازش کو دیکھتے ہوئے عرب اتحاد نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دشمن کی سازشوں کو پسپا کردیا ہے۔

یو اے ای سفیر سلیمان المزروعی کا کہنا تھا کہ سعودی اتحادی افواج کی جانب سے یمن میں حوثیوں کے خلاف جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ الحدیدہ اور دیگر محاصرہ زدہ علاقوں میں  امدادی آپریشنز  بھی جاری ہیں۔

المزروعی کا کہنا تھا کہ یمنی حزب اللہ حوثی باغیوں کی جانب سے الحدیدہ بندر گاہ کو تباہ کرنے کے بعد سمندری راستے سے آنے والی ترسیل تاحال بند ہوگئی ہے لیکن فضائی اور زمینی راستے سے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی اتحادی افواج نے حوثی باغیوں کے خلاف زمینی کارروائیوں کا دائرہ بڑھاتے ہوئے فوجی آپریشن میں فضائی اور سمندری افواج کی مدد بھی حاصل کرلی ہے، جس کے بعد فضا اور سمندر سے بھی حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ یمن کی سرکاری فوج اور اس کی حامی عرب اتحادی فوج اس وقت الحدیدہ شہر اور بندرگاہ کے کںٹرول کے حصول کے لیے بھرپور فوجی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

خیال رہے کہ یمن جنگ میں گذشتہ تین برسوں کے دوران 10 ہزار سے زائد بے گناہ شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں، جس کے بعد اقوام متحدہ نے یمن کی موجودہ صورتحال کو ’بدترین انسانی تباہی‘ کہا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں