یو اے ای (17 فروری 2026): طلبہ کے لیے بُری خبر ہے کہ اب وہ اپنی پسندیدہ کھانے پینے کی متعدد اشیا اسکول نہیں لا سکیں گے۔
بچوں کی صحت اور نشوونما کو بہتر بنانے کے لیے طلبہ پر کھانے پینے کی درجنوں اشیا سمیت جَنک فوڈز کی فروخت اور اُسے ساتھ لانا ممنوع قرار دیدیا ہے۔ تاہم یہ پابندی خلیجی ممالک کے اسکولوں کے طلبہ اور انتظامیہ پر عائد کی گئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات نے یہ فیصلہ طلبہ کی بہترین صحت اور نشوونما کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
اس سلسلے اماراتی محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بچوں میں صحت مند غذا کے انتخاب کو فروغ دینے، ان کی توجہ اور تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے، اور طویل مدت میں بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
اماراتی تعلیمی حکام کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں درج ذیل قسم کی اشیا اسکول کیمپس، کینٹین یا طلبہ کے لنچ باکسز میں لانا اور استعمال کرنا منع ہیں۔
ان اشیا میں سافٹ ڈرنکس (کاربونیٹیڈ)، انرجی اور شوگر والے مشروبات، چاکلیٹس، آلو کے چپس اور دیگر پروسیسڈ اسنیکس، مٹھائیاں، کیک، ڈونٹس اور دیگر زیادہ شوگر والے میٹھے اور تلی ہوئی غذائیں جیسے فرائز، فلافل، سموسے وغیرہ شامل ہیں۔
حکام کے مطابق پروسیسڈ گوشت اور زیادہ نمک یا چکنائی والے کھانے، مصنوعی رنگ، فلیورز اور زیادہ شوگر والے جوسز پر پابندیاں بچوں میں موٹاپا، ذیابیطس اور دیگر صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے لگائی گئی ہیں۔
اس سلسلے میں اماراتی تعلیمی حکام کی جانب سے اسکول انتظامیہ کو طلبہ کے لنچ باکسز کی چیکنگ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ ممنوع اشیا نہ لائی جائیں۔
اس کے علاوہ اسکول کی فائرمنٹ اور کینٹینز میں صرف صحت مند اور متوازن خوراکیں فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے جیسے تازہ پھل، کم چکنائی والے دودھ، دہی، روِسٹڈ یا بیکڈ غذائیں اور پانی بطور بنیادی مشروب ہی رکھی جائیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


