The news is by your side.

Advertisement

کچرے سے بجلی کی پیداوار، متحدہ عرب امارات ناممکن کو ممکن بنانے کے لیے پرعزم

دبئی: متحدہ عرب امارات نے کچرے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر کام شروع کردیا، جس سے ہزاروں گھروں کو بجلی فراہم کی جاسکے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے صحرا میں کچرے سے بجلی پیدا کرنے والے پہلے بجلی گھر کی تعمیر کا آغاز کردیا۔

دبئی کے صحر میں بجلی گھر اور منصوبے کی تعمیر کے لاکھوں ایکڑ  جگہ مختص کی گئی ہے، جس پر 12 لاکھ ڈالرز کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ یہ منصوبہ 2024 میں مکمل ہوگا۔

ویسٹ مینجمنٹ کمپنی بیح کے انجینئر نوف وزیر نے منصوبے کے آغاز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پاور پلانٹ میں استعمال ہونے والے کچرے کو کسی صورت دوبارہ قابل استعمال نہیں بنایا جاسکے گا۔

مزید پڑھیں: گرین پریزیڈنسی : ایوان صدر پاکستان کیلئے بڑا اعزاز

انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں اس وقت 16 لاکھ مربع میٹر کا رقبے پر کچرا موجود ہے، اگر اس پر قابو نہ کیا گیا تو 2041 تک یہ پھیل کر 58 لاکھ مربع میل تک پھیل جائے گا۔

انجینئر نواف نے بتایا کہ ہر سال تین لاکھ ٹن کوڑا کرکٹ، کچرے اور فضلے کو  استعمال کر کے 28 ہزار گھروں کے لیے بجلی فراہم کی جاسکے گی۔

’یہ پلانٹ ہرسال 19 لاکھ ٹن فضلہ سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔ یہ اعداد اس وقت امارت میں پیدا ہونے والے گھریلو کچرے کا 45 فی صد ہے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں