بدھ, مئی 13, 2026
اشتہار

یو اے ای میں سائبر کرمنلز کے لیے متعین سخت سزائیں کیا ہیں؟

اشتہار

حیرت انگیز

دبئی (7 مئی 2026): یو اے ای کے سائبر کرائم سے متعلق قانون کے تحت سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے غلط استعمال پر سخت سزائیں مقرر کی ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے سائبر جرائم سے متعلق قانون UAE Federal Decree-Law No. 34 of 2021 on Combatting Rumours and Cybercrimes کے تحت سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کے بارے میں سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

اس قانون کی دفعہ 33 کے مطابق اگر کوئی شخص انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، یا کسی بھی آن لائن رابطے کے ذریعے کسی دوسرے فرد کو فحاشی یا جسم فروشی جیسے غیر اخلاقی کاموں کی طرف راغب کرے، اس کی حوصلہ افزائی کرے، یا اس میں کسی طرح مدد کرے تو یہ ایک سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔

ایسے افراد کو عارضی قید کے ساتھ ساتھ بھاری جرمانہ بھی ہو سکتا ہے جو کم از کم ڈھائی لاکھ درہم اور زیادہ سے زیادہ دس لاکھ درہم تک ہو سکتا ہے۔

اگر اس جرم میں کوئی بچہ متاثر ہو تو سزا مزید سخت ہو جاتی ہے، اور ایسی صورت میں کم از کم پانچ سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

اسی قانون کی دفعہ 34 کے تحت انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا کے ذریعے فحش مواد بنانے، پھیلانے یا اس کی تشہیر کرنے پر بھی پابندی عائد ہے۔

اگر کوئی شخص ایسا آن لائن پلیٹ فارم بناتا ہے یا چلاتا ہے جہاں اس قسم کا غیر اخلاقی مواد شیئر کیا جاتا ہو تو اسے قید کے ساتھ جرمانہ بھی ہو سکتا ہے، جو عام طور پر ڈھائی لاکھ سے پانچ لاکھ درہم کے درمیان ہوتا ہے۔

اگر اس فحش مواد میں بچوں کو شامل کیا جائے یا انہیں نشانہ بنایا جائے تو سزا مزید سخت ہو جاتی ہے اور کم از کم ایک سال قید لازمی ہو سکتی ہے۔

اس قانون کا مقصد ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور معاشرتی اقدار کی حفاظت کرنا ہے۔

May be an image of text

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں