منگل, جون 16, 2026
اشتہار

امارات نے حزب اللہ، ایران سے منسلک نیٹ ورک پکڑ لیا

اشتہار

حیرت انگیز

ابوظبی (21 مارچ 2026): متحدہ عرب امارات کے اسٹیٹ سیکیورٹی ادارے نے ایک ایسے نیٹ ورک کو ختم کر دیا ہے، جسے لبنان کی حزب اللہ اور ایران کی جانب سے فنڈنگ اور آپریشنل مدد حاصل تھی۔

امارات کی سرکاری خبر ایجنسی وام کا کہنا ہے نیٹ ورک کے ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ایجنٹوں کا یہ نیٹ ورک یو اے ای میں جعلی تجارتی ادارے کی آڑ میں کام کر رہا تھا۔

نیٹ ورک قومی معیشت میں در اندازی کے ساتھ ایسے بیرونی منصوبے بنا رہا تھا جو ملک کے مالیاتی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے تھے، یہ نیٹ ورک تخریب کاریوں کی مالی معاونت کے لیے منی لانڈرنگ میں ملوث تھا اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔

اسٹیٹ سیکیورٹی نے واضح کیا ہے کہ قومی معیشت یا شہری اداروں کو تخریبی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کا سختی اور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں

روئٹرز کے مطابق لبنان کی وزارت خارجہ نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے متحدہ عرب امارات کے خلاف ’’دہشت گرد سازش‘‘ قرار دیا، حزب اللہ کی مبینہ شمولیت کی مذمت کی، اور یقین دہانی کرائی کہ لبنانی حکام ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تعاون کریں گے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں وزارت خارجہ نے اس ماہ کے آغاز میں لبنانی حکومت کے اس فیصلے کو بھی دہرایا، جس کے تحت حزب اللہ کی عسکری اور سیکیورٹی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

دوسری طرف حزب اللہ نے جمعہ کے روز اماراتی حکام کے ان الزامات کو ’’من گھڑت‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ اس کی نہ تو امارات میں کوئی موجودگی ہے اور نہ ہی کوئی آپریشنل نیٹ ورک، اور اس نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا۔

یہ پیش رفت کویت میں پیش آنے والے ایک علیحدہ واقعے کے بعد سامنے آئی ہے، جہاں حکام نے پیر کے روز بتایا تھا کہ انھوں نے ایک ایسے گروہ کا سراغ لگایا ہے جس کے حزب اللہ سے روابط تھے اور جو قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ حکام نے اس کارروائی میں اسلحہ، گولہ بارود اور ڈرونز بھی قبضے میں لیے۔

حزب اللہ نے منگل کے روز ایک بیان میں کویتی الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے انھیں بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ اس کی کویت میں بھی کوئی موجودگی یا آپریشنل نیٹ ورک نہیں ہے۔ واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے تہران خلیجی خطے میں بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں