The news is by your side.

Advertisement

یو اے ای : پاکستانیوں کی سہولت کیلیے آسان اور مؤثر طریقہ کار متعارف

یو اے ای : حکومت پاکستان کی جانب سے دبئی میں رہنے والے پاکستانیوں کو مختلف معاملات میں خدمات فراہم کرنے کیلئے آسان اور مؤثر طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے۔

اس حوالے سے دبئی میں پاکستانی قونصل خانے کی جانب سے وہاں مقیم پاکستانیوں کو قونصلر خدمات کی فراہمی کے لیے موبائل ایپلی کیشن جاری کی گئی ہے۔ پاکستان کے قونصل جنرل احمد امجد علی نے بدھ کے روز موبائل ایپلیکیشن کا افتتاح کیا۔

نئی متعارف کردہ ایپلی کیشن کے ذریعے   متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کو تمام قونصلر اور ویلفیئر خدمات بشمول دستاویزات کی تصدیق، ویزہ  درخواستوں،  پاسپورٹ اور  شناختی کارڈ، میتوں کی منتقلی، قانونی مشاورت اور دیگر تک رسائی دی گئی ہے۔

ایپ کے افتتاح کے موقع پر پاکستانی قونصل جنرل احمد امجد علی کا کہنا تھا کہ موبائل ایپلی کیشن کو ڈیزائن کرتے وقت اس کے استعمال میں سہولت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اب یہاں مقیم پاکستانی قونصلر سروس کے لیے ایپ کے ذریعے وقت لے سکتے ہیں، ضروری کاغذات اور فیس وغیرہ کے متعلق بھی جان سکتے ہیں۔

ایپلیکیشن کے ذریعے قونصلر خدمات کے لیے وقت لینے، ضروری دستاویزات اور فیس کی معلومات کے لیے اب انہیں خود قونصلیٹ آنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

قونصل جنرل کے مطابق امارات کے دیگر حصوں میں بہت سے پاکستانی مقیم ہیں، اس سہولت کے ذریعے وہ اپنے رہائشی مقامات پر رہتے ہوئے سہولیات حاصل کر سکیں گے۔

موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے متحدہ عرب امارات کے جاب لیٹر کی تصدیق اور پاکستانیوں کے لیے اماراتی ویزے کی تصدیق بھی ہو سکے گی۔
پاکستان میں زمینوں کے تنازعات سے متعلق معلومات، عائلی مسائل اور دیگر حکومتی اداروں سے متعلق معلومات بھی ایپ کے ذریعے حاصل کی جا سکیں گی۔

پاکستانی قونصل خانے کے مطابق موبائل ایپلیکیشن کا لنک آفیشل ویب سائٹ پر موجود ہے جہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے دو روز قبل ٹوئٹر پر یہ اعلان بھی کیا گیا تھا کہ اب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے “ایف ایم پورٹل” فعال کر دیا گیا ہے۔

وزیرخارجہ کے اکاؤنٹ سے کی گئی ٹویٹ میں اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ایم ایف پورٹل جدہ، دبئی، بارسلونا، لندن اور نیویارک کے لیے دستیاب ہے، جلد تمام سفارتی مشنز کے لیے مہیا کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وبا نے جو چیلنج ہمیں دیا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ انسانی جانوں کو بچانے کے لیے منظم اور مربوط جدوجہد کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ پوری دنیا کو غیر متوقع چیلنج درپیش ہیں۔ وبا نے دنیا بھر کے ملکوں میں معیشت، صحت، تعلیم اور سماجی ڈھانچے کو تباہ کن نقصانات پہنچائے ہیں۔

الربیعہ نے کہا کہ ویکسین کی رسد میں بڑا تضاد ہے۔ بیشتر ویکسینوں کی خوراکیں گنے چنے ملکوں تک پہنچی ہیں۔ اس کا خمیازہ بیشتر ممالک کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ کئی ممالک ایسے ہیں جہاں وبا سے متاثرین کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے۔ ہسپتالوں میں مریض زیر علاج ہیں اور اموات ہورہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب دوا سازی کے سلسلے میں علاقائی انداز اپنانے کی حوصلہ افزائی کررہا ہے، سعودی عرب چاہتا ہے کہ مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں دوا سازی کا علاقائی نظام قائم ہو۔

کوویڈ ویکسین کی علاقائی پیداوار نہ صرف یہ کہ مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں وبا کو قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ اس کی بدولت روزگار کے مواقع بھی حاصل ہوں گے اور علاقائی صحت نگہداشت کا نظام بھی مضبوط ہوگا۔

ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اپنے وسائل اور استعدداد کی بدولت دوا سازی اور ادویہ کی ترسیل کا علاقائی مرکزبن سکتا ہے۔ ہمارے یہاں اس قسم کی سہولتیں مہیا ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مملکت نے وبا کے سر ابھارنے پر وبا سے نمٹنے کے لیے 713 ملین ڈالر لگائے تھے جبکہ شاہ سلمان مرکز، یمن، شام، سوڈان کے شہریوں، بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں، افریقہ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں پناہ گزینوں کی مدد کر رہا ہے۔

انہوں کی مزید کہا کہ ہمیں انسانی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے جب تک سب لوگ وبا سے محفوظ نہیں ہوں گے ہم میں سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہوسکتا۔ مستقبل میں بھی یہ اصول لاگو ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں