The news is by your side.

بغیر کفیل کے اقامہ، امارات نے تاریخ رقم کردی

ابوظبی: متحدہ عرب امارات نے غیر ملکیوں کو بڑی خوشخبری سنادی ہے۔

الامارات الیوم کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت نے غیرملکیوں کے لیے ’گولڈن‘، ’ورچوئل‘ اور ’گرین‘ سمیت دس اقسام کے اقاموں کا آغاز کیا ہے، جس کا اطلاق آج سے ہوگیا۔

وفاقی اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹم اور پورٹس سکیورٹی نے بتایا کہ غیرملکیوں کے لیے دس اقسام کے اقاموں کا اجرا شروع کردیا گیا ہے ، جن کی مدت دو سے دس برس تک اور قابل توسیع ہوگی۔

نئے اقامہ نظام میں سرمایہ کاروں، تاجروں، سائنسدانوں، ماہرین، ذہین طلبہ، فلاحی خدمات کرنے والوں سمیت ڈاکٹروں اور زندگی کے تمام شعبوں کے ہنرمندوں کے لیے ویزوں اور اقاموں کی سہولت دی گئی ہے۔

نئے اقامہ نظام کی چند اہم خصوصیات

الامارات الیوم کے مطابق ویزا اور اقامے کی کارروائی کو مختصر اور آسان بنانے کے ساتھ سہولتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔

یو اے ای میں مقیم غیرملکی کی فیملی اورغیرملکی پاسپورٹ ہولڈر گلف کارپوریشن کونسل (جی سی سی) ممالک کے شہریوں کی فیملی کے لیے بھی اقامہ جاری ہوگا۔

نئے طریقہ کے تحت انسانی حالات کی بنیاد پر بھی اقامے کا اجرا ہوگا۔

ملک میں کفیل کا نظام مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے، نئے ویزوں کے نظام میں اب کفیل کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

غیرملکی اقامہ ختم ہونے یا منسوخ کیے جانے کے بعد ایک سے چھ ماہ تک امارات میں قیام کرسکیں گے

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں غیر قانونی تارکین کو سفری سہولت دینے والا گرفتار

اتھارٹی نے بتایا کہ آئندہ آجر اور اجیر کے درمیان کاروباری تعلق پر انحصار ہوگا، ریکارڈ وقت میں ویزا جاری ہوگا اور مقررہ سہولتوں کی فراہمی میں غیرمعمولی لچک کا مظاہرہ کیا جائے گا۔

حکام نے بتایا کہ گولڈن اقامے کے تحت اب کسی بھی غیر ملکی کو ریاست سے غیر حاضر رہنے کی شرط ختم کردی گئی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ایک ورچوئل اقامہ پرمٹ بھی متعارف کرایا ہے، جو اس خطے میں اپنی نوعیت کا پہلا ہے، جو کسی غیر ملکی کو وہ اپنی ذاتی کفالت پر متحدہ عرب امارات میں داخل ہونے کی اجازت اور ایک سال تک قیام کی اجازت دیتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں