دبئی، پاکستانیوں کو ملازمتیں دینے کے بہانے بین الااقوامی کمپنی نے لوٹ لیا UAE fraud
The news is by your side.

Advertisement

دبئی: سیکڑوں‌ پاکستانی و بھارتی کینیڈا جانے کے نام پر ہزاروں درہم سے محروم

دبئی : دو بین الااقوامی کمپنیوں نے دبئی میں موجود پاکستانیوں، بھارتیوں اور دیگر سیکڑوں ایشیائی شہریوں سے نیوزی لینڈ اور کینیڈا میں ملازمت دلانے کا جھانسہ دے کر ہزاروں درھم بٹور لیے اور بعد ازاں اپنے دفاتربند کردیے۔

تفصیلات کے مطابق دبئی میں موجود سیکڑوں افراد کا نیوزی لینڈ اور کینیڈا جانے کا خواب آنسوؤں اور رقم کی محرومی کے ساتھ ختم ہوگیا، متاثرہ افراد برسوں سے بچت کرکے جمع کیے جانے والے اپنے ہزاروں درہم جعل سازی کے سبب کھوبیٹھے۔

خلیج ٹائمز کے مطابق دبئی میں موجود ایشائی باشندوں کو نیوزی لینڈ اور کینیڈا میں پُرکشش ملازمت دلانے کا جھوٹا وعدہ کرنے والی کمپنیاں اوریکل ویزا اور ورلڈ مائیگریشن کے نام سے کام کر رہی تھیں وہ پاکستانی، ہندوستانی اوردیگر ممالک کے باشندوں سے بھاری رقوم سمیٹ لی اور فرار ہوگئیں۔

متاثرہ افراد کی تعداد سیکڑوں میں ہے

ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مذکورہ دونوں کمپنیوں نے اچھی ملازمتوں کے متلاشی ایشیائی باشندوں سے 6 ہزار درہم سے لے کر 15 ہزار درہم تک کی رقم بٹوری لیکن کسی ایک بھی شخص کو ملازمت دلانے کے بجائے دفاتر بند کر کے چلی گئیں، متاثرین کی تعداد سیکڑوں میں ہے۔

دبئی اکنامک ڈپارٹمنٹ نے کمپنیاں بند کیں

کہا جا رہا ہے کہ بین الاقوامی ملازمتیں فراہم کرنے والی دونوں کمنیوں کو دبئی اکنامک ڈپارٹمنٹ نے بند کیا ہے تاہم اس کی سرکاری وجوہات کا تاحال علم نہیں ہوسکا۔

اوریکل ویزا کو 6 ہزار درہم کی رقم دی، پاکستانی شہری

ایک پاکستانی شہری عرفان شریف جو کہ دبئی میں سیلزمین ہیں انہوں نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ میں نے اوریکل ویزا کو 6 ہزار درہم کی رقم قسطوں میں ادا کی  کمپنی کا دعویٰ تھا کہ وہ ایک سال کے اندر نیوزی لینڈ یا کینیڈا میں ملازمت دلا دے گی۔

آٹھ ہزار درہم دیے، کمپنی نے نوکری دلانے کا وعدہ کیا، بھارتی شہری

اسی طرح ایک بھارتی شہری نے ملازمت ملنے کے وعدے کے عوض  8 ہزار درہم دینے کا دعوی کیا۔  دونوں افراد کا دعوی ہے کہ ان سے کمپنی نے ایک سال کے اندر نوکری دلوانے کا وعدہ کیا تھا لیکن جب میعاد مکمل ہونے کے بعد بھی کوئی رابطہ نہیں کیا گیا تو ہم کمپنی کے دفتر ہپہنچے تو پتا چلا کہ یہ دفتر تو کئی ماہ سے بند ہے اور کمپنیاں جا چکی ہیں۔

زندگی بھر کی جمع پونجی گنوادی، متاثرین

متاثرہ افراد کا کہنا تھا کہ انہوں نے زندگی بھر کی جمع پونجی گنوا دی ہے جس کا انہیں بے حد غم ہے اور نہایت پریشان ہیں تاہم ان کی یہاں شنوائی نہیں ہو رہی ہے اور کوئی ان کی داد رسی کرنے والا نہیں ہے۔

کمپنیاں سوشل میڈیا کے ذریعے بے وقوف بناتی ہیں

خیال رہے کہ اس قسم کی کمپنیاں سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے فیس بک صفحوں کو استعمال کرتے ہوئے پر کشش ملازمتوں کی آفر کرتی ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہی سارے معاملات طے ہوتے ہیں جب کہ کچھ کمپنیوں نے فرنچائز بھی کھولی ہوتی ہیں جہاں اچھے مستقبل کے خواب دیکھنے والوں نوجوانوں کو شکار بنایا جاتا ہے۔

کمپنیاں بند کردیں، فراڈ برداشت نہیں، کارروائی کریں گے، دبئی حکام

اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ دونوں کمپنیاں اپنے صارفین سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہو گئی ہیں چنانچہ دونوں کمپنیوں کو بند کردیا گیا ہے اور قانونی چارہ جوئی کے لیے آئینی ماہرین کے درمیان صلاح و مشورے جاری ہیں دھوکا دہی اور فراڈ کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ایک فراڈ کمپنی نے نام بدل کر کام شروع کردیا

دوسری جانب ویب سائٹ خلیج ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اپنی تحقیقات کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے اوریکل ویزا کا کھوج لگانے میں کامیاب ہوگئی  ہے جو کہ اب نئے نام سے اپنے بزنس کا آغاز کرچکی ہے اور اس نے  ’’اونٹیریو ٹاور بزنس بے‘‘ دبئی میں اپنا دفتر بھی کھول رکھا ہے۔

کمپنی کا رقم لینے کا اعتراف

ویب سائٹ نے مذکورہ کمنیوں کے مالک سری لنکن تاجر سے رابطہ کیا اور اس معاملے پر ان کا موقف جانا جس پر کمپنی کے مالک نے دونوں کمپنیوں کی ملکیت اور لوگوں سے ملازمتیں دلوانے کے عوض بھاری رقوم لینے کا بھی اعتراف کیا۔

سسٹم ایک ملازم نے ہیک کرلیا تھا، کمپنی کا دعویٰ

سری لنکن تاجر کا کہنا تھا کہ میری کمپنیوں کے سسٹم کو ایک ملازم نے ہیک کرلیا تھا اور تمام صارفین کو جھوٹی ای میل بھیج دی تھیں جس کی وجہ سے ہمارے صارفین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور معاملہ یہاں تک آن پہنچا۔

کوشش ہے لوگوں کو رقم جلد واپس کردی جائے، سری لنکن مالک

کمپنی کے مالک کا کہنا تھا کہ اکثر صارفین کی رقوم واپس کردی گئی ہیں تاہم اب بھی کچھ لوگ باقی ہیں جنہیں ادائیگی کرنا رہ گئی ہے تاہم ادائیگی کے حتمی وقت بتانے سے قاصر ہوں البتہ پوری کوشش ہے کہ جلد از جلد لوگوں کی رقوم ان کو مل جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں