The news is by your side.

Advertisement

متحدہ عرب امارات نے’گولڈن کارڈ‘ مستقل سکونتی پروگرام کا آغاز کردیا

پروگرام سے ابتدائی طور پر 6800 تارکین وطن فائدہ اٹھائیں گے

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات نے اعزازات کی اپنی طویل فہرست میں ایک حالیہ نیا اضافہ کیا ہے۔ یہ اضافہ ملک میں مقیم غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل تارکین وطن کے لئے گولڈن کارڈ مستقل اقامہ کا اجراءہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور حاکم دبئی شیخ محمد بن راشد المکتوم نے منگل کے روز مستقل سکونت پروگرام کا اجراءکیا۔ اس پروگرام سے استفادہ کرنے والے 6800 سرمایہ کاروں کی دبئی میں سرمایہ کاری کا حجم ایک سو ارب اماراتی درہم سے زیادہ ہے۔

یو اے ای کا گولڈن کارڈ اقامہ طب،انجینئرنگ اور سائنس کے شعبے میں غیر معمولی پیشہ وارانہ ٹریک ریکارڈ کے حامل غیر ملکیوں کو جاری کیا جائے گا۔ نیز ملک میں غیر معمولی سرمایہ کاری کرنے والے تارکین وطن کو بھی مستقل سکونت دی جائے گی۔

ٹویٹر پر گولڈن کارڈ مستقل سکونتی پروگرام کے اجراءکا اعلان کرتے ہوئے شیخ محمد نے کہا کہ امارات میں مستقل سکونت کا پروگرام شروع کیا ہے۔ گولڈن کارڈ سسٹم سے استفادہ کرنے والوں میں غیر معمولی صلاحیتوں کی حامل شخصیات اور امارات کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے والے شامل ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم انہیں اپنا مستقل شریک بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ہمارے ساتھ چل سکیں۔ یو اے ای میں بسنے والے تمام تارکین وطن ہمارے بھائی ہیں اور ہم انہیں امارات کے عظیم فیملی کا حصہ سمجھتے ہیں۔

سعودی عرب میں پہلی بار تارکین وطن کو مستقل رہائش کی اجازت

یاد رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب نے بھی اپنے مقیم تارکین وطن کے لئے امریکی گرین کارڈ کی طرز پر مستقل اور مخصوص مدت کے لئے کارآمد منفرد اقامہ جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔

 اب تک سعودی عرب نے اپنی سرکاری پالیسیوں کے تحت وہاں رہنے والے تارکین وطن کو مستقل رہائش کا حق دینے میں بہت ہی ہچکچاہٹ سے کام لیا ہے اور اس سلسلے میں آج تک کوئی باقاعدہ قوانین بھی متعارف نہیں کرائے گئے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ اس عرب بادشاہت میں رہنے والے تمام غیر ملکی کارکن ہمیشہ انہیں سپانسر کرنے والے مقامی شہریوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جو عرف عام میں کفیل کہلاتے ہیں اور اپنے ’زیر کفالت‘ تارکین وطن کے جملہ قانونی معاملات کے ذمے دار بھی ہوتے ہیں۔

اس فیصلے مقصد سعودی عرب کو طویل المدتی بنیادوں پرغیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش بنانا بھی ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ ریاض حکومت کی کوشش ہے کہ وہ تیل کی برآمد پر اپنا بہت زیادہ اقتصادی اور مالیاتی انحصار کم کرتے ہوئے اندرون ملک سرمایہ کاری اور سرمائے کی گردش میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کر سکے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں