منگل, مارچ 17, 2026
اشتہار

’’17 فروری کو دوربین سے رمضان کا چاند دیکھنے پر شدید نقصان کا خطرہ‘‘ ماہرین کا انتباہ

اشتہار

حیرت انگیز

دبئی (15 فروری 2026): یو اے ای میں ماہرین فلکیات نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ 17 فروری کو رمضان کا چاند دیکھنے کے لیے دوربین استعمال نہ کریں۔

دنیا بھر میں منگل 17 اور 18 فروری کو رمضان کا چاند دیکھنے کے لیے رویت کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس موقع پر عوام بھی ماہ مقدس کا چاند دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تاہم متحدہ عرب امارات کے ماہرین فلکیات نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ 17 فروری کو رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے دوربین کا استعمال نہ کریں کیونکہ یہ کوشش ان کے لیے شدید نقصان ہو سکتی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق یو اے ای کے ماہرینِ فلکیات نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ 17 فروری کو ہلال دیکھنے کی کوشش کے دوران دوربین یا بائنوکولرز کا غیر محفوظ استعمال آنکھوں کے عارضی یا مستقل نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین فلکیات نے مزید کہا کہ اُس روز سورج گرہن بھی ہوگا اور غروبِ آفتاب کے وقت چاند، سورج کے انتہائی قریب ہوگا جس سے براہِ راست یا بالواسطہ سورج کی شعاعیں آنکھوں پر پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس حوالے سے ابوظہبی میں قائم انٹرنیشنل آسٹرونومی سینٹر کے مطابق 17 فروری کو ریاض میں غروب آفتاب کے وقت سورج اور چاند کے درمیان زاویائی فاصلہ صڑف ایک درجے کے قریب ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں اگر رویت کا ہلال انتہائی باریک بھی ہو تو وہ سورج کے سورج کے قرص سے تقریباً آدھا درجہ فاصلے پر ہوگا۔

ایسے موقع پر اگر کوئی شخص دوربین سے چاند دیکھنے کی کوشش کرے گا تو سورج یا اس کی تیز روشنی آلے کے میدانِ نظر میں آسکتی ہے جو دیکھنے والے کی بینائی کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

دبئی آسٹرونومی گروپ کی آپریشنز مینیجر خدیجہ الحریری نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ گرہن دن میں ہوگا تاہم غروبِ آفتاب کے وقت بھی چاند سورج کے بے حد قریب ہوگا اس لیے غیر محفوظ مشاہدہ خطرناک ہو سکتا ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں