The news is by your side.

Advertisement

متحدہ عرب امارات میں تنخواہ سمیت چھٹی کن ملازمین کو دی گئی ہے؟

ابو ظہبی: متحدہ عرب امارات میں بعض شعبوں کے سرکاری ملازمین کے لیے مخصوص حالات میں تنخواہ سمیت ہنگامی چھٹی کی منظوری دے دی گئی۔

بین الاقومی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے خاص حالات میں تنخواہ سمیت ہنگامی چھٹی کی منظوری دے دی، فیصلہ نائب صدر شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا ہے۔

اماراتی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وفاقی ادارے کے شادی شدہ ملازم مرد یا خاتون کو 16 برس سے کم عمر کے بچوں کی نگہداشت کے لیے تنخواہ سمیت ہنگامی چھٹی دی جا سکتی ہے۔

اس سہولت سے وہ ملازم بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن میں سے کسی ایک کی بیوی یا شوہر کسی اہم صحت کے ادارے میں ملازم ہو، مثال کے طور پر ڈاکٹر، نرسیں، طبی عملہ اور ایسے کارکنان جو اپنی ڈیوٹی کے تحت کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج شامل ہوں، یا قرنطینہ سینٹر کے کارکنان ہوں۔

یہ سہولت امارات میں ہنگامی صورتحال کے دوران مؤثر ہوگی۔ اماراتی حکومت کے رابطہ دفتر کے مطابق ہنگامی چھٹی سے مندرجہ ذیل افراد کو فائدہ ہوگا۔

اگر گھریلو قرنطینہ یا ہیلتھ قرنطینہ کی وجہ سے ماں باپ میں سے کوئی ایک موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں ہنگامی چھٹی تنخواہ سمیت دی جائے گی۔

ہنگامی چھٹی ان لوگوں کو بھی دی جا سکے گی جب میاں بیوی میں سے کوئی ایک کرونا وائرس کے متاثرین کے علاج کے سلسلے میں لمبی مدت تک کسی اسپتال میں ڈیوٹی دے رہا ہو۔

ہنگامی چھٹی ان لوگوں کو بھی دی جائے گی جو کرونا وائرس کے مریضوں کی تیمار داری میں مصروف ہوں۔

رابطہ دفتر کے مطابق چھٹی لینے والا کسی وزارت یا متحدہ عرب امارات کے کسی سرکاری ادارے میں ملازم ہونا چاہیئے، دوسری شرط یہ ہے کہ وہ شادی شدہ ہو اور اس کی اولاد کو خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہو،

تیسری شرط یہ ہے کہ شوہر یا بیوی کی ملازمت پر 3 شرائط پوری ہو رہی ہوں، دونوں میں سے کوئی ایک گھریلو قرنطینہ میں ہو یا وزارت صحت نے اسے قرنطینہ بھیجا ہو یا پھر شوہر یا بیوی ڈاکٹر یا نرس یا امدادی طبی عملے سے منسلک ہوں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں