The news is by your side.

Advertisement

متحدہ عرب امارات، والدین کا ’پب جی‘ گیم پر پابندی کا مطالبہ

دبئی: متحدہ عرب امارات میں والدین نے آن لائن گیم ’پب جی‘ پر پابندی لگانے کا مطالبہ کردیا۔

عرب میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات میں والدین نے انتظامیہ سے آن لائن گیم ’پب جی‘ پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پب جی گیم نوجوان نسل پر برے اثرات مرتب کررہا ہے۔

دبئی میں ایک طالب علم کی والدہ گلناز عارف نے کہا کہ پب جی گیم پر پابندی ضرور لگانی چاہئے، مذکورہ گیم بچوں کے ذہنوں پر برے اثرات مرتب کررہا ہے، بچوں کا پڑھائی میں دل نہیں لگتا وہ صرف گیم جیتنے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔

ایک اور طالب علم کی والدہ معینہ فاروق نے کہا کہ آن لائن گیم پب جی پر جلد از جلد پابندی لگائی جائے۔

بی بی اوسیما کا کہنا تھا کہ بچے اپنا زیادہ تر وقت گیم کھیلنے میں گزارتے ہیں، گیم کے سبب بچوں کی کھیلوں کی سرگرمیاں ختم ہوکر رہ گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارتی شہرراج کوٹ میں موبائل گیم ’پب جی‘ پرپابندی عائد

واضح رہے کہ آن لائن گیم پب جی 2017 میں متعارف کرایا گیا تھا، آن لائن گیم اسمارٹ فون اور کمپیوٹر پر کھیلا جاتا ہے۔

جنوبی کوریا کی فرم کی جانب سے تیار کردہ پب جی گیم کھیلنے پر بھارت کے مختلف شہروں میں پابندی ہے، پابندی کے باوجود پب جی گیم کھیلنے پر گجرات سے 10 طلباء کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ بھارت میں حال ہی میں گیم کھیلنے کے سبب ایک طالب علم کی خودکشی کے بعد ان کے والد کی جانب سے گیم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، برلن کے میئر نے بھی کہا تھا کہ جو سرکاری ملازم گیم کھیلنے پکڑا گیا اسے نوکری سے برخاست کردیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں