پیر, جون 8, 2026
اشتہار

یو ای اے میں منشیات پر سزائیں کیا ہیں؟

اشتہار

حیرت انگیز

دبئی (8 مئی 2026): یو اے ای میں صرف منشیات رکھنا اور استعمال ہی جرم نہیں بلکہ دوسروں کو اس جانب مائل کرنا بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے قانون کے تحت نہ صرف منشیات کا استعمال اور قبضہ بلکہ کسی دوسرے شخص کو اس جرم کی طرف مائل کرنا، سہولت فراہم کرنا، دھوکا دینا یا زبردستی شامل کرنا بھی قابلِ سزا جرم شمار ہوتا ہے۔

فیڈرل ڈیکری بائی لاء نمبر (30) آف 2021 کے تحت، خصوصاً آرٹیکل 48، 50 اور 51 میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص براہِ راست منشیات استعمال یا قبضے میں ملوث نہ بھی ہو، لیکن کسی دوسرے کو اس میں شامل ہونے پر اُکسائے، مدد دے یا اس عمل کو ممکن بنائے تو وہ بھی قانونی ذمے داری کے دائرے میں آتا ہے۔

اگر کوئی شخص کسی کو منشیات کے جرم کی طرف مائل کرے یا اس میں سہولت فراہم کرے تو اس کی سزا کم از کم پانچ سال قید اور 50,000 درہم جرمانہ ہو سکتی ہے۔

اسی طرح اگر کوئی شخص دھوکا دہی کے ذریعے، مثلاً کسی کے علم کے بغیر کھانے یا مشروب میں نشہ آور چیز شامل کرے تو اسے زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید اور کم از کم 20,000 درہم جرمانہ ہو سکتا ہے۔

اگر اس عمل کے نتیجے میں کسی کی جان چلی جائے تو سزا عمر قید یا سزائے موت تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ مزید برآں، کسی دوسرے شخص کو زبردستی منشیات استعمال کروانے کی صورت میں کم از کم دس سال قید جیسی سخت سزا مقرر ہے۔

May be an image of map and text

اس کے علاوہ یو اے ای کے فیڈرل قانون کے آرٹیکل 57 اور 58 کے مطابق اگر کوئی شخص منشیات کو ملک میں لانے، باہر لے جانے، تیار کرنے یا اپنے پاس رکھنے کا عمل اس نیت سے کرے کہ انہیں آگے فروخت، تقسیم یا فروغ دیا جائے، تو اسے انتہائی سخت سزا دی جاتی ہے، جس میں سزائے موت بھی شامل ہو سکتی ہے۔

اسی طرح اگر کوئی فرد منظم جرائم پیشہ گروہوں کا حصہ ہو یا ان کی سرگرمیوں میں معاونت کرے تو اسے سزائے موت یا عمر قید تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔

May be an image of text

قانونی طور پر تجویز کردہ ادویات کا استعمال بھی انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے۔ ایسی ادویات کسی بھی صورت میں ساتھیوں، یا دیگر افراد کے ساتھ شیئر نہیں کی جانی چاہییں۔

سفر سے پہلے اور دورانِ قیام ان قانونی ذمہ داریوں سے مکمل آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ غیر ارادی غلطیوں سے بچا جا سکے اور مکمل قانونی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں