کیا آپ یواے ای میں اپنےاہلِ خانہ کے ساتھ رہناچاہتے ہیں؟ -
The news is by your side.

Advertisement

کیا آپ یواے ای میں اپنےاہلِ خانہ کے ساتھ رہناچاہتے ہیں؟

 

اگر آپ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں مقیم ہیں اور اپنے اہلِ خانہ کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں تو دنیا بھر کے کسی بھی ملک کی طرح یہاں بھی اس کے لیے کچھ شرائط ہیں جن پر پورا اترنا ضروری ہے۔

جی ہاں! اگر آپ یو اے ای میں کام کررہے ہیں تو مندرجہ ذیل شرائط پر عمل پیرا ہوکر آپ اپنے اہلِ خانہ کو اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں جن میں سے اولین شرط آپ ماہانہ تنخواہ چار ہزار درہم یا اگر ادارے کی جانب سے رہائش دی گئی ہے تو کم از کم تین ہزار درہم ہونا ضروری ہے۔

یو اے ای میں کام کرنے والوں کی اچھی خاصی تعداد اپنے گھروں سے دور تنہا رہتی ہے ‘ کچھ اپنے والدین کے بغیر رہ رہے تھے کچھ اپنے بیوی بچوں کو بھی پیچھے چھوڑکر آئے ہیں جس کی وجہ یہاں اہلِ خانہ کو اسپانسر کرنا مہنگا ہونا ہے۔

لیکن اگر آپ چار ہزار درہم یا تین ہزار درہم بمع رہائش کما رہے ہیں تو آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں ‘ تاہم والدین کو ساتھ رکھنے کے لیے آپ کی تنخواہ کم از کم 20 ہزار درہم ہونا ضروری ہے۔

اگر آپ کے اہل خانہ یو اے ای سے باہر ہیں تو سب سے پہلے آپ نے رہائشی ویزہ کے لیے اپلائی کرنا ہوگا اور جب وہ یہاں پہنچ جائیں گے تو تیس دن کے اندر آپ نے رہائشی مہر کے لیے اپلائی کرنا ہے۔

اس درخواست کے لیے جو ڈاکیومنٹ آپ کو درکا ر ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں؛

ٹائپ شدہ درخواست فارم
سیلری سرٹیفکٹ
لیبر کارڈ اور لیبر کانٹریکٹ
تصدیق شدہ نکاح نامہ
بچوں کے مصدقہ پیدائشی سرٹیفکٹ
تین ماہ کا بینک گوشوارہ
مصدقہ کرایہ نامہ
اماراتی آئی ڈی

اگر آپ کی شادی امارات میں نہیں بلکہ آپ کے آبائی وطن میں ہوئی ہے تو پھر آپ کو اپنے نکاح نامے کی متعلقہ منسٹری سے تصدیق کرانی ہوگی اور پھر اس پر یواے ای ایمبیسی / قونصل خانے کی مہر لگے گی اور اس کے بعد امارات کی متعلقہ منسٹری اس کی تصدیق کرے گی۔

اور سب سے اہم بات اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے اہلِ خانہ کا رہائشی ویزہ قابلِ عمل رہے تو پھر ایک بار آمد کے بعد وہ چھ ماہ سے زیادہ امارات سے باہر نہیں رہ سکیں گے‘ بصورت دیگر ویزہ منسوخ ہوجائے گا۔

اگر آپ مطلوبہ شرائط پر پورے اترتے ہیں تو انتظار کس بات کا کررہے ہیں‘ ابھی سے کارروائی شروع کیجئے اور اپنے پیاروں کو اپنے ساتھ رکھیے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں