The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے 44 مشترکہ منصوبوں پر دستخط کردیئے

ریاض : متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی کورڈینیشن کونسل کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں دونوں ملکوں کی معاشی ترقیاتی اور مشترکہ عسکری تعاون کے حوالے 44 اسٹرٹیجک منصوبوں پر دستخط ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گذشتہ روز مشترکہ معاشی، ترقیاتی اور عسکری نظریئے کے حوالے سے 44 اسٹرٹیجک منصوبوں کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید اور سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی صدارت میں منعقدہ کورڈینیشن کونسل کے اجلاس میں مذکورہ معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

عرب میڈیا کے مطابق گذشتہ روز دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام کے درمیان منعقد ہونے والے اجلاس میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی کورڈینیشن کونسل کے اراکین اور ڈھانچے کا اعلان کیا گیا، جس کا کام صرف منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل ہے۔

اجلاس میں کورڈینشن کونسل کے اہداف بھی بتائے گئے جن میں دونوں عرب ریاستوں کی معیشت، انسانی ترقی، سیاسی، سیکیورٹی اور عسکری تعاون کے انڈیکس میں اضافہ شامل ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے ولی عہد نے کورڈینشین کونسل کے مقاصد میں عوام کی فلاح و بہبود اور مسرت کے حصول کو اہم ہدف قرار دیا ہے۔

عرب میڈیا کا کہنا تھا کہ اجلاس کے آخر میں ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آج دونوں ممالک تاریخ کے ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں عرب ریاستوں کے لیے تعاون کی مثال قائم کرنے کا موقع ہے۔

شیخ محمد بن زاید کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اتحاد و اتفاق حقیقتاً ہمارے تحفظ اور معیشت کی ضمانت ہے، جو دونوں ریاستوں کے شہریوں کے مستقبل کو سنوارنے کا اہم موقع ہے۔

ابوظہبی کے ولی عہد کا کہنا تھا کہ خطے میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب دو بڑی اور اہم طاقتیں ہیں، جو معاشی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ جدید افواج کے بھی حامل ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب 3 کھرب ڈالرز مالیت کی جی ڈی پی کے ہدف کے قریب ہے، کیوں کہ دونوں ملکوں کی برآمدات 750 ارب ڈالرز مالیت کی ہے جو دنیا میں چوتھی بڑی برآمدات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں عرب ملکوں کی سالانہ منصوبوں پر 150 ارب اماراتی درہم لاگت آرہی ہے جو باہمی رابطے کے لیے بڑئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی کورڈینیشن کونسل مئی 2016 میں وجود میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید اور سعودی عرب موجودہ حاکم شاہ سلمان بن عبد العزیز کی ہدایات کے بعد وجود میں آیا تھا۔

واضح رہے کہ کورڈینیشن کونسل کا پہلا اجلاس اختتام ہونے پر میٹنگ کے محضر نامے پر دستخط بھی کیے گئے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریںْ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں