ابو ظہبی: صنفی مساوات کے تمام ایوارڈز مردوں کے نام -
The news is by your side.

Advertisement

ابو ظہبی: صنفی مساوات کے تمام ایوارڈز مردوں کے نام

ابو ظہبی: متحدہ عرب امارات میں صنفی برابری کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہنے کے لیے نمایاں شخصیات کو ایوارڈ سے نوازا گیا، تاہم تمام ایوارڈز مردوں کو دیے جانے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد المکتوم نے صنفی مساوات کے شعبے میں مختلف شخصیات کو میڈلز اور سرٹیفکیٹس سے نوازا۔

یہ ایوارڈز ’صنفی مساوات کو فروغ دینے والی حکومتی شخصیت‘، ’صنفی مساوات کو فروغ دینے والی وفاقی اتھارٹی‘، اور ’بہترین صنفی مساوات کے منصوبے‘ کی کیٹیگری پر مشتمل تھے۔

تمام ایوارڈز وزارت خزانہ اور وزارت افرادی قوت سمیت مختلف حکومتی شخصیات کو دیے گئے۔ ایوارڈ پانے والے تمام شعبوں کی نمائندگی مرد کر رہے تھے۔

صنفی مساوات کو فروغ دینے والی بہترین شخصیت کا ایوارڈ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل شیخ سیف بن زید النہیان کو دیا گیا جنہوں نے فوج میں میٹرنٹی لیو پر عملدر آمد کے لیے کوششیں کیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ان ایوارڈز کو نہایت طنز و تنقید کا نشانہ بنایا گیا، ایک صارف نے ٹویٹ کیا، ’یہ صنفی تنوع دیکھ کر میں بہت خوش ہوں‘۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں متحدہ عرب امارات میں صنفی مساوات کے لیے کی جانے والی کوشوں میں اضافہ ہورہا ہے۔

سنہ 2018 میں اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ صنفی مساوات کے حوالے سے گلف ممالک میں متحدہ عرب امارت سب سے آگے ہے اور یہاں ایک سے 2 سال کے دوران خواتین کو عملی میدان میں لانے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: خواتین کے بغیر، خواتین کے لیے بنائی جانے والی کونسل

رپورٹ کے مطابق سنہ 1975 میں امارات میں صرف 1 ہزار خواتین عملی میدان میں سرگرم تھیں جبکہ ان کے مقابلے میں اب 1 لاکھ 35 ہزار خواتین مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں، اسی طرح تعلیم کے میدان میں بھی خواتین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

کچھ عرصہ قبل سعودی عرب میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا جب لڑکیوں کے لیے پہلی کونسل قائم کی گئی، کونسل میں لڑکیوں ہی کی شمولیت کو قطعی غیر ضروری سمجھا گیا اور مردوں نے خود ہی کونسل کے قیام اور اس کے اغراض و مقاصد طے کر ڈالے۔

سعودی حکومت کے اس اقدام کو بھی نہایت تنقید کا نشانہ بنایا گیا، لوگوں کا کہنا تھا کہ تصاویر میں خواتین کی عدم شمولیت سعودی حکومت کی اس موضوع پر غیر سنجیدگی کو ظاہر کر رہی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں